پولیو قطرے

آج کل پولیو کے قطروں کے بارئے میں انتہائی گہما گہمی نظر آرہی ہے ۔صوبہ خیبر پختون خواہ کے چیف جسٹس کا حکم ہے کہ جو بھی بندہ کیس لے کر عدالت آئے گا تو اسکے پاس اپنے بچوں کو پولیو قطرئے پلانے کا سرٹیفیکیٹ بھی پیش کرنا ضروری ہے۔

اسکے ساتھ ڈی سی اوز کو یہ حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ جو والدین بچوں کو پولیو قطرئے پلانے سے انکاری ہیں تو انکے لئے فورا ”سرکاری مہمان خانے” میں جگہ کا بندوبست کیا جائے۔

صوبہ پختون خواہ کے دور دراز علاقوںمیں بھی اسی طرح کے مہم چلائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ علاقے جہاں پینے کا پانی اور دیگر بنیادی ضروریات تک میسر نہیں ،وہاں تک یہ قطرئے پہنچا کر اس مہم کو سرانجام دیا جا رہا ہے۔

پچھلے دنوں ملا جیون سے ملاقات ہوئی ، باتوں باتوں میں اسی مہم کا ذکر چل پڑا تو ملا جیون نے اسکی بڑی مخالفت کی ۔اور کہا کہ کراچی میں حلال فاونڈیشن کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا۔

سیمینار سے بڑئے بڑئے اہل علم نے خطاب کیا ۔جب پولیو کے قطروں کا ذکر آیا تو وہاں اس بات کا ذکر ہوا کہ علماء میں سے مفتی تقی عثمانی صاحب اور ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے بھی پولیو کے قطرئے پلانے پر زور دیا۔

اب ملا جیون سے برداشت نہ ہوا اور وہ اپنی پچھلی نشست سے اٹھ کر سٹیج پر آئے اور مایئک سنبھال لیا۔
ملا جیون نے کہا کہ پہلی بات تو یہ کہ مجھے اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ پاکستان جب عالمی ادارہ صحت سے پولیو قطرئے لیتا ہے تو اسکو لیبارٹری میں چیک کیوں نہیں کرتا ۔یا خود ملکی سطح پر کیوں اسکو نہیں بناتا۔

دوسری بات یہ کہ اخر اس پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے ۔ جبکہ اسکے مقابلے میں دوسرئے بیماریاں جو کہ جان لیوا ہیں ، انکی فکر ہی نہیں کی جاتی۔

پورے کراچی میں جذام کے تقریبا چالیس ہزار مریض ہیں۔ جبکہ انکے ہسپتالوں میں علاج نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ انکی انگلیوں سے گوشت کے ٹکڑئے گر رہے ہیں ۔پیپ اور خون ان سے بہہ رہا ہے۔ کوئی انکے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔متعدی بیماری ہے۔ یہ لوگ کسی کام کاج کے نہیں رہے۔ آخر انکا علاج تو نہیں کیا جاتا لیکن پولیو پر اتنا زور دیا جارہا ہے ۔حالانکہ پورئے سندھ میں پولیو کے صرف چھ کیس سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح یرقان کی مثال لیجئے ، ایک ایک انجکشن دس ہزار سے اوپر اوپر کی ہے۔لاتعداد مریض ہیں جو کہ اس کے سبب مر رہے ہیں۔متعدی بیماری ہے۔لیکن حکومت ان مریضوں کیلئے کچھ نہیں کرتی۔

اسی طرح اور بھی بہت سی جان لیوا بیماریاں ہیں ،جن میں مبتلاء مریضوں کو کوئی سہولت نہیں دی جارہی ہے۔

بم دھماکے میں زخمیوں کے علاج کیلئے ڈاکٹروں کی منتیں کرنا پڑتی ہیں،اسکا کوئی نہیں پوچھتا۔

آخر یہ پولیو پر ہی اتنا زور کیوں ۔
مغربی اقوام کہتے ہیں کہ یہ قطرئے ہم آپکو اسلئے پلا رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ یہ مرض آپ لوگوں سے منتقل ہو کر ہم میں سرائیت کر جائے۔
ملا جیون کے بقول اسکا آسان علاج یہ ہے کہ جسکو مغرب کا ویزہ دو ، اسی وقت اسکو قطرئے پلائے جائیں۔

افتخار اجمل صاحب کی بات کہ اگر ہم جہالت کے سبب پولیو قطرئے نہیں پلاتے تو ہمارے لئے تعلیمی ترقی کا بندوبست کیا جائے۔جب معاشرہ تعلیم یافتہ ہو جائے گا تو ہر آدمی خود ہی پولیو کے قطرئے پلائے گا۔

لیکن اس مشورئے پر “آقا ء” غصہ ہوجاتے ہیں اور انکے چہرئے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ظاہر ہے اگر معاشرہ سو فیصد تعلیم یافتہ بن جائے تو پھر انکی چالیں دھری رہ جائیں گی۔

ملا جیون کہتا ہے کہ ایک بار میں ہسپتال گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ پولیو متعدی بیماری ہے۔ بس اس پر ملا جیون انتہائی غصہ ہوئے اور ڈاکٹر سے کہا کہ متعدی کا مطلب جانتے ہو کسے کہتے ہیں؟

پولیو زدہ انسان کے ساتھ تو ہمارا عام اختلاط ہوتا ہے ،لیکن کہیں یہ نہیں سنا گیا کہ فلاں کو فلاں سے پولیو ہو گیا۔میڈیکل کالج میں پڑھا ہے یا ڈنگر خانے میں!
کہتےہیں کہ اسکے بعد ڈاکٹر آگے نہ بول سکا۔

ملا جیون کہتا ہے کہ سندھ بلوچستان میں ایسے علاقے ہیں ،جہاں پینے کا پانی میسر نہیں ۔لوگ وہ پانی پیتے ہیں جن میں جانور پیشاب کرتے ہیں۔ملا جیون نے خود بھی ایسے ہی ایک جو ہڑ کا پانی پیا ہے کیونکہ جان بچانا فرض ہے۔جانور پیاس کے سبب ایسی آوازیں نکالتے تھے کہ آدمی کا کلیجہ پھٹنے لگتا تھا۔

چنانچہ ملا صاحب کی کوششوں سے وہاں صاحب ثروت لوگوں کی مدد سے ایک ادارے کے ماتحت متعدد پینے کے پانی کے تالاب بنائے گئے۔لیکن جیسے ہی اغیار کو اس کاوش کی اطلاع ملی تو اس ادارئے پر پابندی لگائی گئی جو کہ تاحال برقرار ہے۔

ان کاموں کیلئے نہ ہی کو ئی فنڈ ہے اور نہ ہی کوئی پلان۔ نہ کمیٹیاں ہیں اور نہ ہی عدالتی احکامات۔

اگر ہم اپنے پاب داداوں پر نظر دوڑائیں تو انکے سات سات ،اٹھ اٹھ بچے ہوتے ہین ،لیکن انہی کی آج کل کی نسل دیکھو تو درجن درجن لڑکیاں تو ہوتی ہیں لیکن لڑکا کوئی نہیں ہوتا۔

معمولی معمولی بیماری پر عورت کو اپریشن پر مجبور کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ بچے پیدا نہ کرسکے۔

ملا جیون نے کہا کہ دنیاء میں حلال اور حرام کا تعین کیا گیا ہے۔ لیکن بعض امور مشتبہ بھی ہیں ۔اور امور مشتبہ کا یہ حکم ہے کہ جب تک اسکی شبہات کا ازالہ نہیں ہوتا ۔تو ایسے امور کو اگر صریح حرام نہیں تو اس پر توقف ضرور کیا جائے گا۔ ہاں جب شبہات کا ازالہ ہوجائے اور بات صاف ہوجائے تو پھر البتہ اسپر حلال یا حرام کا فتویٰ لگتا ہے۔

چنانچہ ملا جیون کے بقول پولیو کے قطرے اس وقت تک نقصان دہ ہیں اور اسکے استعمال سے پرہیز ضروری ہے جب تک اسکے اجزاء کی وضاحت مکمل طور سے نہ کی جائے,اور شکوک و شبہات کو دلائل سے زائل کیا جائے۔لیکن شاید ملا جیون کی یہ آرزو کبھی بھی پوری نہ ہوسکے۔

فتنہ

فتنہ کسے کہتے ہیں؟

فتنہ کہتے ہیں کہ باطل،حق کی شکل میں آجائے۔

اس میں حق اور باطل خلط ملط ہوجاتا ہے اور باطل کو حق کے ساتھ ملا کر پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ حق اور باطل کی تمیز نہ ہوسکے۔جیسے قادیانی ہیں ،انہوں نے چینلز کھولے ہوئے ہیں اور انکے پادری داڑھی پگڑی بھی پہن لیتے ہیں ،دیکھ کر لگتا ہے کہ کوئی مسلمان ہے ،حالانکہ صریح کفر ہے لیکن کیسے حق کے ساتھ خلط ملط ہوگیا ہے !

فتنوں سے بچنے کیلئے احادیث مبارکہ میں علاج سورۃ کہف کا اہتمام بتایا گیا ہے۔کم از کم جمعے کو پوری سورت اور اگر جمعے کو نہ پڑھ سکے تو روزانہ شروع کے 10 آیات کا اہتمام کیا جائے۔

یہ ٹیگ ٹیگ کا کھیل

پہلی بار ایک دوست بلاگر   محترم ضیاء الحسن خان صاحب نے ٹیگ کیا۔پہلے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ خدایا یہ کیا ماجرا ہے۔ظاہر ہے اب تک ہم وہ دوسرا ٹیگ ہی صرف جانتے تھے۔لیکن پھر اردو سیارہ کی مدد سے اکثر اردو بلاگرز کے بلاگ پڑھے تو پتہ چلا کہ یہ بھی بلاگستان  کا ایک کھیل ہے۔

چلو اچھا ہوا ،اس بہانے  کچھ ماضی مستقبل کی باتیں ہوجاتی ہیں۔تو لیجئے سولات کے جوابات

2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟

ایک  چھوٹا سا پروگرام شروع کیا ہے دنیا کمانے کیلئے۔۔کوشش کرتا ہوں کہ اسکو کامیاب بناوں۔

2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟

کسی خاص واقعے کا تو نہیں ، ہاں  ایک سرکاری محکمے کے ایک اعلان کا انتظار ہے۔

2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟

سوچا کہ ابو  کے جیب خرچ  کے سبب کب تک مفت خورئے بنے رہیں گے۔اسلئےکچھ کمانے کیلئے  بازاری زندگی میں قدم رکھا ہے۔فی الحال تو  پھسلنے سے بچے ہوئے ہیں ۔

2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟

ہر وقت لوگوں کو کہتا پھرتا تھا کہ بچے کی پیدائش پر ممکن حد تک اپریشن سے بچو ،لیکن خود اس  مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔

2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟

اللہ تعالیٰ نے ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا۔

سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟

بس نارمل

کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟

یہی  کہ  دنیای معاملات اور دینی معاملات میں دھوکہ دہی سے کیسے بچا جائے۔

میرے خیال میں اردو بلاگستان میں شائد ہی کوئی رہ گیا ہے گو کہ ٹیگا نہیں گیا ہو۔

لیکن اس جلوس میں محترم محمد سلیم صاحب  کہیں نظر نہیں آئے ۔نیز ہندوستان کے محترم نور محمد صاحب کے بارئے میں بھی جاننے کا شوق ہے تو  میں ان دونوں کو ہی ٹیگ کرتا ہوں۔ساتھ ہی محترمہ تحریم صاحبہ کو بھی ٹیگ کرکے توڑی سی تکلیف دیتا ہوں۔بلا امتیاز صاحب کو بھی اگر ٹیگا جائے تو مناسب ہوگا۔

سما ء ٹی وی اور پولیس قتل کے ذمہ دار قرار

جی ہاں وہ جو کہتے ہیں نا کہ افٹر شاکس، تو کراچی کے ایک مدرسہ کے خلاف سماء ٹی وی کی من گھڑت رپورٹ  کے افٹر شاکس  اب بھی محسوس کئے جارہے ہیں ۔

ایک طرف اس رپورٹ کو بہانہ بنا  پوش علاقوں میں مدارس بند کرنے کے نوٹس  جارہی ہوئے ہیں ،جس کے سبب ہزاروں بچوں کی مفت تعلیمی سلسلے میں رکاوٹ پیداہوجائے گی۔

دوسری طرف  نشیؤں کے اصلاحی مرکز  کو بند کرنے  کے بعد جو مریض اپنے گھروں کو واپس بھجوا دئے گئے تو ان میں سے کئی ایسے ہیں کہ اب ان کے والدین کاراحت و آرام غارت ہوگیا ہے، اسلئے کہ اب انکو اپنے ان نشئی اولاد  سے جان کے خطرئے لاحق ہوئے ہیں ۔

چنانچہ 60 سالہ احمد شاہ کا  بیٹا  محمد خان ایک ہیروئنچی اور چرسی بندہ ہے۔چوریوں کا عادی شخص ہے۔کئی بار چوریوں کے سلسلے میں سزا پا چکا ہے۔

کسی نے اسکے باپ کو اصلاحی مرکز کے بارئے میں بتایا تو انہوں نے جانچ پڑتال کے بعد اپنے بیٹے کو اصلاحی مرکز کے حوالے کیا ،اور بیٹے کو بھاگنے سے روکنے کیلئے خود ہی بازار سے زنجیر وتالہ لے کر آگیا۔

لیکن بیٹے نے اسکو کہا کہ جب بھی میں رہا ہو جاوں تو تمہیں قتل کرونگا۔

چنانچہ پولیس چھاپے کے روز بھی 60 سالہ احمد شاہ واویلا کر رہا تھا کہ پولیس نے میرئے بیٹے کو رہا کرادیا ،اب میرا بیٹا مجھے قتل کرئے گا۔

نیز اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ایک شخص حاجی ہاشم  عرف حاجی کارو  کے دو بیٹے ہیں۔بڑے بیٹے کا نام مجید جبکہ دوسرئے بیٹے کا نام حمید ہے۔

یہ دونوں بھائی مجید اور حمید دونوں نشئی تھے ۔ہر وقت زیادہ نشہ کرنے کے سبب بڑئے بیٹے مجید کی بینائی ختم ہوگئی ہے۔

لیکن نشے کی لت سے چُھڑوانے کیلئے حاجی ہاشم اپنے چھوٹے بیٹے کو  سھراب گوٹھ کے اس اصلاحی مرکز میں لے آیا اور اسکو وہاں پر داخل کرادیا۔حاجی ہاشم اس اصلاحی مرکز کو فیس کی مد میں 3000 روپے ماہانہ ادا کرتا تھا۔

اصلاحی مرکز میں اسکے بیٹے کا کافی افاقہ ہوا تھا اور اسکا بیٹا حمید پنج وقتہ نمازی  بن گیا تھا اور نشہ کی عادت بالکل ہی چھوٹ گئی تھی۔

چنانچہ پولیس چھاپے کے روز اصلاحی مرکز بند ہونے کے سبب اسکو بھی والدین گھر لے آئے۔

چونکہ حاجی ہاشم اور انکی اہلیہ اپنے علاقے میں منشیات فروشوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے،اسی لئے علاقے کے منشیات فروش انکے دشمن بن گئے تھے اور موقع کے تاک میں تھے۔

ایک روز حاجی ہاشم پیشی کیلئے عدالت چلے گئے کہ انکو اطلاع ملی کہ انکے بیٹے  حمید کو قتل کر دیا گیا ہے۔وقوعہ کے روز حمید ظہر کی نماز قریبی مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر سے باہر نکلا لیکن پھر اسکی لاش ہی گھر پہنچ سکی۔

حمید کے والد حاجی ہاشم نے میڈیا کو بتایا کہ اسکی جسم پر سوئیوں کے نشانات تھے اور ایسا لگتا تھا کہ کسی نے اسکو  حد سے زیادہ نشہ دئے کر مارا ہے ۔ انہوں نے مقامی منشیات فروشوں ،سماء ٹی وی چینل اور پولیس کو  اس واقعے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

حاجی ہاشم نے میڈیا کو بتایا کہ سماء ٹی وی کے من گھڑت اور بے بنیاد خبر کی بدولت میرئے بیٹے کا علاج مکمل ہونے سے پہلے  اس مرکز کو پولیس نے بند کردیا۔

جس کے سبب مجبورا مجھے اپنے بیٹے کو گھر لانا پرا جہاں وہ منشیات فروشوں کا نشانہ بن گیا۔

مدارس مخالف مہم پھر شروع

دجالی و شیطانی قوتوں کی خوشی  کیلئے یہ ( کار خیر ) کا کارنامہ انجام دینے والے نجی ٹی وی چینل کا لوگو ذیل میں ہے ہے۔جن کا دعویٰ ہے کہ ہم سنسنی نہیں بلکہ خبریں شئیر کرتے ہیں لیکن۔اسکے کردار وگفتار میں فرق صاف ظاہر ہے۔

ایک دوست کہتا ہے کہ یہ نجی ٹی وی چینل  جھوٹ نہیں بولتا ہے۔کیونکہ خبریں ہی پھیلاتا ہے ہاں بس تھوڑی گمراہ کُن ہوتی ہیں۔

پولیو قطرے: دوا یا کچھ اور ؟

پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے کے بعد بھی  پولیو کے کیس سامنے آتے ہیں۔

اور یہ بات انتہائی پریشانی کی ہے کہ بعض وکلاء اور ڈاکٹروں نے باقاعدہ
پولیو کے قطروں کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی ۔ لیکن پھر انکو خاموش کرادیا گیا۔ Read the rest of this entry

ننھی پری

چند دنوں سے میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مصروفیت کے سبب بندہ کے خیالات بھی منتشر ہوتے ہیں۔ان حالات میں بلاگر صرف کاپی پیسٹ پرہی گذارا کرتا ہے  یا فقط دوسرے Read the rest of this entry

جذبہ بمقابلہ اسلحہ

میرے دوست (محترم احمد اسلام جارصاحب)اپنی خالہ کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ صوبہ ہلمند کے علاقے ہزارہ جفت میں امریکی فوجی تربیت یافتہ کتے کے ہمراہ ہمارے گھر میں تلاشی کے بہانے گھس آئے۔

 ان کے فوجی بندقوں،پستولوں،نیزوں،دستی بموں اورکتوں سے لیس تھے،ہمارے گھر کے حفاظتی کتے کی نگائیں جب امریکی کتے پر لگی تو پلک جھپکتے ہی مقابل کتے کو زمین پر پٹخ دیا، امریکیوں نے اپنے کتوں کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کوشش Read the rest of this entry

بلاگستان میں کمنٹس کا مسئلہ

چند دن پہلے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی تو باتوں کے دوران انہوں نے شکایت بھرے لہجے میں کہا کہ کسی موضوع پر آپ نے ایک کالم لکھا ہوا تھا۔جس پر اس وقت میں کمنٹسکرنا چاہتا تھا۔میں نے بڑی محنت سے ایک طویل کمنٹ لکھا اور جب اسکو پوسٹ کرنے کی باری آئی تو  کبھی ای میل ایڈرس  مانگا جاتا تھا، کبھی کیا اور کبھی کیا۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری وہ محنت ضائع ہوگی کیونکہ میں Read the rest of this entry

کیا فرماتے ہیں ملا محمد عمر صاحب ….؟؟؟؟

کل  ایک ساتھی کے ساتھ واک کر رہا تھا ۔باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ اس بار تو عید کے موقع پر تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا محمد عمر صاحب نے بھی  ایک پیغام بھیجا ہے۔

ہمارئے اندر بھی تجسس کے جراثیم سر اٹھانے لگے کہ دیکھتے ہیں کہ  ہمیں کیا کہنا چاہتے ہیں ملا عمر صاحب؟

تو آئے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے۔۔۔۔۔

پیغام پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میرے معمولات

جو پستی کی جانب اترتا ہوں میں

بیاں تیری تسبیح کرتا ہوں میں

                    بلندی  پہ جس وقت چڑھتا ہوں میں Read the rest of this entry

غربت کا بہانہ

کچھ لوگ دوسروں کو یہ کہہ کردوسری شادی سے روکتے ہیں کہ پہلی بیوی کے اخراجات پورے نہیں ہورہے اور تم دوسری کی بات کرتے ہو۔
دراصل آج کل کے زمانے میں جو

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اپنی کمائی بڑھائیے

ہوا  یوں کہ   ایک شخص  سفر کے دوران ایک راستہ سے گزر رہا تھا ،  کہ اچانک اس نے ایک  آواز سنی ۔  آواز آسمان میں موجود بادلوں  سے مخاطب تھی ۔ اور بادلوں کو حکم دیا جارہا تھا کہ فلاں آدمی Read the rest of this entry

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

صبح کا وقت تھا ۔ میں گھر میں تھا کہ ایک بچہ اندر آگیا اور  کہنے لگا کہ باہر آپکے دو دوست آپکو بلا  رہے ہیں۔میں نے اسکو کہا کہ ٹھیک ہے میں باہر آرہا ہوں ۔

چونکہ میں کہیں Read the rest of this entry

وہ عورت

وہ میرے دوست کے محلے میں رہتی ہے ۔اسکا خاوند پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔اکثر میرے سے ملتا رہتا ہے۔اور گپ شپ ہوتی رہتی ہے۔محکمہ  بہبود آبادی کے مشورے Read the rest of this entry

صدقہ فطر اور مبارک باد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

                                          اما بعد:

            چونکہ عید کے دن قریب ہیں اور مسلمان بھرپور طریقے سے عید کو منانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔اور چونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری Read the rest of this entry

ایک محاذ یہ بھی ہے ، فکر انگیز تحریر

Read the rest of this entry

تاریخ کے نقصانات

تاریخ کے فوائد کی طرح اسکے مہلکات بھی کم نہیں۔دور حاضر میں تاریخ کی وجہ سے جتنی گمراہی پھیل رہی ہے وہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تاریخ پڑھانے والے بیشتر اساتذہ تاریخ سے بیزار اور اسلاف سے متنفر ہیں ،اسکی تین بڑی وجوہ ہیں

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چند گفت

ڈاکٹر فدا  محمد صاحب  مولانا اشرف سلیمانی   پشاوری مرحوم کے خلیفہ مجاز ہیں اور اپنے مرشد کے وفات کے بعد سے اب تک سلسلہ چشتیہ چلا  رہے ہیں۔بندہ کبھی کبھی ڈاکٹر فدا محمد صاحب کی Read the rest of this entry

سفارش کیا کریں

قال النبی صل اللہ علیہ سلم:  اِشفَعوُا  فَلتُوجَروا (مُتَفَق عَلیہ)

ترجمہ : نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے فرمایا کہ سفارش Read the rest of this entry

ہم انتہاء پسند

ہم   فنڈامنٹلسٹ ،   ہم   اتنہا پسند

توحید ہے پسند ہمیں ، شرک نا پسند

تم ہو صنم پسند  تو ہم ہیں خدا پسند Read the rest of this entry

فیس بک کے نقصانات

جاوید چودھری صاحب ایک معروف اور مشہور کالم نگار ہے۔ ایک مشہور روزنامہ میں اکثر کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے فیس بک کی حمایت میں ایک کالم لکھا۔ جس میں انہوں نے فیس بک کے استعمال کی Read the rest of this entry

تین خبریں

اگرچہ مضمون لکھنے کا کوئی خاص ارادہ تو نہیں تھا لیکن چند دن سے کچھ خبریں ایسی پڑھیں،کہ اگر اس پر تھوڑا سا تبصرہ ہوجائے تو برا نہیں ہوگا۔

پہلی خبر:

تو لیجئے جناب پہلی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی Read the rest of this entry

فلاسفہ اور انکے تابعین پر شیطان کی تلبیس

شیطان نے فلاسفہ کو دھوکا دیے کر ان پر اسطرح قابو پایا کہ یہ لوگ فقط اپنی رایوں اور عقلوں کے ہو رہے ،

 اور اپنے خیالات کے مطابق گفتگو کی۔ انبیاء علیھم السلام کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
ان میں سے بعض Read the rest of this entry

حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان ۔ ۔ ۔ ۔ غیروں کی نظر میں

 اردو بلاگستان کے ایک محترم دوست جواد خان نے نبی کریم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
کے بارے میں کفار واغیار کے تعریفی خطبوں کو جمع کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسکے Read the rest of this entry

ایران کے دہشت گرد پاکستان میں

جیسا کہ سب کو یہ بات معلوم ہے کہ اس دنیا میں مملکت پاکستان کے دشمن بہت ہیں۔ کسی سے اس ملک کا اسلامی ہونا ہضم نہیں ہو رہا تو کسی سے اسکا آئٹمی قوت ہونا ہضم نہیں ہورہا ہے۔

بعض قوتیں بالکل اسکے وجود کو برداشت نہیں کر پارہی، اسکو پاکستان Read the rest of this entry

اسامہ کی موت ۔۔۔ چند اشکالات

میں کوئی باضابطہ دفاعی تبصرہ نگار نہیں ہوں اور نا ہی کوئی تجزیہ نگار، لیکن بحیثیت ایک عام پاکستانی جو سوالات میرے ذہن میں ہیں۔ تو میں نے چاہا کہ اسکو Read the rest of this entry

ایدھی اور جہالت

جب شیطان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نکال دیا تھا، تو اسی وقت شیطان نے قسم کھائی تھی کہ میں آپکے پیدا کردہ انسانوں کو گمراہ کرکے رہونگا۔

اور پھر اسکے بعد وہ اپنے کام Read the rest of this entry

خبردار: یہ آدمی خطرناک ہے

ارے درویش بھائی کیوں ہم کو ڈرائے جارہے ہو۔اور باتیں کیا کم ہیں کہ آپ ہمیں ڈرا رہے ہو۔

لیکن جناب کیا کریں ، بات ہی Read the rest of this entry

کیا دینی مدارس کی ضرورت ہے؟

آج  ۳۰ مارچ کو عصر کے وقت قریبی صدیق اکبر ٹاؤن میں مدنی  مسجد اور اسکے ساتھ متصل مدرسہ مدینۃ العلوم   کا  افتتاح  کا پروگرام تھا۔ اس افتتاحی تقریب میں مختلف لوگوں نے شرکت کی اور بہت سے درد دل رکھنے والے اور اپنے خالق سے تعلق جوڑنے والے شخصیات Read the rest of this entry

زہریلے ایس ایم ایس

ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ جو بات سُنے تو بغیر تحقیق  اسکو اگے پھیلائے۔

اور ایسی باتوں کا Read the rest of this entry

Iran paid for killing Ulema in Pakistan

جب سے پاکستان بنا ہے ،تو اس دن سے لے کر آج تک بعض ممالک نے مملکت خدادا پاکستان کو معاف نہیں کیا ہے۔ بلکہ جب بھی ان کو موقع ملا ،تو انہوں نے پاکستان سے اپنی دشمنی ظاہر Read the rest of this entry

روشنیوں کا شھر یا انبیاء کے ورثاء کا مقتل؟

Read the rest of this entry

ایک مظلومانہ پکار

Read the rest of this entry

تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور امیر شریعت کی تڑپ

ذیل میں امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کا ایک بیان ہے جو کہ پاکستان میں Read the rest of this entry

عمل سے نصیحت کرنے والے

Read the rest of this entry

20 مارچ ( قران جلاؤ دن ) کے بعد اب ۔ ۔ ۔

بشکریہ روزنامہ Read the rest of this entry

شھباز بھٹی کو بلیک واٹر نے قتل کیا ہے۔

 

Read the rest of this entry

توہین رسالت اور مسیحی دنیا

Read the rest of this entry

یوم خواتین ۔ ۔ ۔ خواتین کے بنیادی حقوق

بشکریہ روزنامہ اسلام Read the rest of this entry

کیا علماء اور مذہبی کارکنان ہی لاوارث ہیں؟

Read the rest of this entry

مسئلہ جمع بین الصلوٰ تین

 

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد  :

چونکہ اس مضمون میں چار  اصطلاحات  (یعنی جمع صوری و جمع حقیقی اور جمع تاخیر وجمع تقدیم )   کا ذکر کثرت سے ہے

لھذا میں نے مناسب جانا کہ پہلے ان اصطلاحات  کی ذرا   وضاحت کی جائے۔ لھذا  انکی وضاحت  نمبروار درج ذیل ہے:

(۱) ۔۔۔۔ جمع صوری کی Read the rest of this entry

قرآن و سنت کی بالادستی اور قائد اعظم کے فرامین

Read the rest of this entry

وفاقی وزراء کی غلط بیانیاں اور اسکے نقصانات

Read the rest of this entry

چونکا دینے والی خبر : ناسا اقوام متحدہ کی مدد سے ساری دنیا کو دجال کے زیر اثر لانے کی کوشش میں

مغربی ممالک  بہت پہلے سے شیطانی اثرات  کے تحت چل رہی ہیں۔ شیطان نے ان لوگوں کو پہلے اپنے مذہب سے دور کرکے وحشی پن میں مبتلا کردیا اور پھر انکو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔

دجال شیطان کا سب سے آخری Read the rest of this entry

شہباز بھٹی کا قتل اور صحافیوں کی سنگین غلطیاں

بعض اوقات ایک حادثہ اتنا بڑا اور سنگین نہیں ہوتا ہے ۔ لیکن جب دوسرا شخص  آپکو مشتعل کرنے کیلئے آپکے جذبات کو غلط استعمال کرنے کی کوشش کرئے تو اس وقت معاملہ انتہائی سنگین اور پر خطر Read the rest of this entry

صدر پاکستان کے نام خط ۔ اصل ماجرا کیا ہے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مولانا اللہ وسایا صاحب ختم نبوت مجلس کے متحرک ممبر ہیں۔  جب  پنجاب میں آسیہ مسیح  کی شان رسالت میں گستاخی کا  مسئلہ پیدا ہوا تو   اصل بات کو چھوڑ کر کچھ لادین لوگ توہین رسالت قانون کے Read the rest of this entry

بی بی سی کی نامہ نگار عنبر خیری کے خبیث کالم (قاتل قوم ) کا ترکی بہ ترکی جواب

بی بی سی چونکہ صلیبی قوم کی نمائندہ ریڈیو ہے، لھذا انکی  اسلام اور پاکستان دشمنی کسی سے  مخفی نہیں ہے۔

 بلکہ یہ دشمنی انکی مجبوری ہے اور انکے خمیر میں یہ بات موجود ہے کہ اسلام اور پاکستان کی بیخ کنی کی Read the rest of this entry

صرف امریکہ نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔

اکثر اس طرح ہوتا ہے کہ ہمارئے ہاں کو ئی حادثہ ہوجاتا ہے تو ہم فورا   اس کا ناطہ امریکا سے جوڑنے لگتے ہیں لیکن  یہ نہیں دیکھتے کہ اس حادثہ کے کرانے میں ہمارا کتنا کردار ہے ۔

اسکی واضح مثال   مشہور قاتل ریمینڈ ڈیوس  کے واقعے کا ہے، کہ خود ہم نے انکو اپنے ملک بلایا اور خود ہم نے انکو ویزہ جاری کیا اور ان لوگوں کو سر پر چڑھا لیا،

اور اب جبکہ انہوں نے تھوڑی ادھر ادھر کی تو فورا  ہم نے امریکہ کو گالیاں دینا شروع کی۔

پاگل کتے کو اپنے قریب کرنے والا  اسکے کاٹنے Read the rest of this entry

پاکستان کے دینی حلقوں نے شہباز بھٹی کے قتل کو سازش قرار دیا

Read the rest of this entry

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.