صرف امریکہ نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔

اکثر اس طرح ہوتا ہے کہ ہمارئے ہاں کو ئی حادثہ ہوجاتا ہے تو ہم فورا   اس کا ناطہ امریکا سے جوڑنے لگتے ہیں لیکن  یہ نہیں دیکھتے کہ اس حادثہ کے کرانے میں ہمارا کتنا کردار ہے ۔

اسکی واضح مثال   مشہور قاتل ریمینڈ ڈیوس  کے واقعے کا ہے، کہ خود ہم نے انکو اپنے ملک بلایا اور خود ہم نے انکو ویزہ جاری کیا اور ان لوگوں کو سر پر چڑھا لیا،

اور اب جبکہ انہوں نے تھوڑی ادھر ادھر کی تو فورا  ہم نے امریکہ کو گالیاں دینا شروع کی۔

پاگل کتے کو اپنے قریب کرنے والا  اسکے کاٹنے پر واویلا کا کوئی حق نہیں رکھتا۔

جس ذات نے ہمیں اور انکو پیدا کیا ہے ، اس نے واضح طور سے  اپنے کتاب میں کہا ہے کہ یہ صلیبی   تمھارے دشمن ہیں لیکن ایک ہم ہیں کہ بس عقل مندی کے زعم میں  کہتے ہیں کہ ہم دوست ہیں، اب جبکہ  یہ پاگل کتے ہم کو کاٹتے ہیں تو ہم ہی واویلا بھی کرتے ہیں۔

اس طرح کے بہت سے مسائل ہمارے خود پیدا کردہ ہیں ۔

ذیل کے کالم میں بھی  کالم نگار نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔

پڑھئے اور سر دھنئے۔

بشکریہ  روزنامہ  اسلام

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on March 3, 2011, in گل دستہ (کاپی پیسٹ). Bookmark the permalink. 2 Comments.

  1. Nahi Samajh Aya baat wohi achi jo khul k kahi jaey lagi lipti na ho.

  1. Pingback: صرف امریکہ نہیں بلکہ ۔ ۔ ۔ | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: