کیا دینی مدارس کی ضرورت ہے؟

آج  ۳۰ مارچ کو عصر کے وقت قریبی صدیق اکبر ٹاؤن میں مدنی  مسجد اور اسکے ساتھ متصل مدرسہ مدینۃ العلوم   کا  افتتاح  کا پروگرام تھا۔ اس افتتاحی تقریب میں مختلف لوگوں نے شرکت کی اور بہت سے درد دل رکھنے والے اور اپنے خالق سے تعلق جوڑنے والے شخصیات حاضر ہوئیں۔اور ان میں مہمانان خصوصی  ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب  (شیخ الحدیث  دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک)، ڈاکٹر فدا محمد صاحب (خلیفہ مجاز  مولانا اشرف سلیمانی) اور مولانا عبد البصیر شاہ تھے۔

اپنے خطاب کے دوران  ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے اس بات پر بہت زور دیا کہ  عوام کو مدارس کی اہمیت کا اندازہ کرنا چاہئے ۔ کیونکہ دینی علم اور نیک صحبت کی غیر موجودگی کے سبب  لوگ مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہو کر  اپنے اور ملک کا نقصان شدید کر جاتے ہیں۔اور اکثر حکومتی طبقہ دین سے نابلد ہونے کے سبب گمراہی اور بربادی کے فیصلے کرنے لگتی ہے۔

اگر ہمارے بچے ان دینی اداروں سے وابستگی اختیار کریں اور اور اگر ہم اپنے بچوں کی تربیت ان دینی اداروں میں کرلیں  تو یہی بچے ہمارے  لئے  مشعل راہ بن جاتے ہیں اور موت کے بعد بھی انکے تربیت کے سبب انکے صدقات اور نیک اعمال کا اثر ہم تک پہنچتا ہے۔

اور اسی لئے تو ایک حدیث میں بھی  اس بات کا ذکر ہے کہ صدقہ جاریہ میں سے ایک قسم نیک اولاد بھی ہے۔

اسکے بعد ڈاکٹر فدا محمد صاحب نے مختصر سا خطاب کیا اور اپنے خطاب کے دوران اس نے یہ بات کہی کہ ہم لوگ اکثر ایسے کالجوں کو ترجیح دیتے ہیں جس میں اسباق اور تعلیم سے زیادہ  نوجوان نسل کی بے راہ روئی اور بےدینی کی بھر پوری  کوشش کی جاتی ہے۔ اور ان پرائیویٹ کالجوں  خاص کر جو مشنری کالج ہوتے ہیں تو  انکا  یہی مشن ہوتا ہے کہ نوجوان نسل کو اسلام سے دور کرکے صرف نام کا مسلمان بنایا جائے۔

انہوں نے اس سلسلے میں یہ واقعہ سنایا کہ  پشاور کے دو مشہور ڈاکٹر لندن میں کسی کام سے گئے تھے کہ اس دوران انکو اطلاع ملی کہ فلاں جگہ پر  پشاور سے آئے ہوئے ایک مشہور سکالر خطاب کریں گے ، تو  ان دونوں پاکستانی ڈاکٹروں نے یہ سوچا کہ شائد کو ئی دینی رہنماء  یا  پاکستان کے کسی یونیورسٹی کا چانسلر ہوگا  لھذا انہوں نے بھی اس پروگرام میں شرکت کا ارادہ کیا۔

جب یہ پاکستانی ڈاکٹر اس پروگرام میں پہنچے تو انکو یہ جان کر سخت حیریت ہوئی کہ پشاور سے آیا ہوا ایک بوڑھا انگریز تقریر کر رہا تھا اور تقریر کے دوران وہ اپنے ادارے کیلئے چندے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

مجمع میں سے ایک انگریز  نے اُٹھ کر یہ پوچھا کہ تمھارے ادارے کا  کیا فائدہ ہے تو اس نے  جواب میں ایک فلم چلائی ۔ فلم کیا تھی پشاور کے ایڈورڈ کالج کے میں داخل ہونے والے  لڑکے کا کیرئیر ریکارڈ تھا۔

لڑکا جب کالج میں داخل ہوا تھا تو پکا مسلمان لیکن جب وہ دو سال بعد کالج سے فارغ ہوا تو  اسلام کے نام پر ایک کالا دھبہ تھا اور  اسلام دشمن طاقتوں سے زیادہ اسلامی نظام کیلئے خطرناک ۔

بوڑھے  پرنسپل نے کہا کہ میرے  ایڈورڈ کالج میں جب لڑکا داخل ہوتا ہے تو  مسلمان لیکن کالج سے فارغ ہونے کے بعد اسکا نام تو مسلمانوں والا  رہ  جاتا ہے لیکن اندر سے وہ اسلام سے بالکل خالی ہوتا ہے۔

اور  یہی  میرا  اصل مقصد ہے۔

 اب یہ اس طالب علم پر منحصر ہے کہ وہ ایڈورڈ کالج کے ماحول سے کتنا  اثر لیتا ہے۔

نیز ڈاکٹر فدا محمد صاحب نے یہ بات بھی بتائی کہ اس ایڈورڈ کالج پشاور  کا  دھوبی کالج کے لڑکوں کو باقاعدہ اور منظم طریقے سے شراب مہیا کرتا تھا تاکہ یہ مسلمان لڑکے کالج کے دور سے ہی شراب کے عادی بن جائیں۔

نیز انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ  کے دو گورنروں کے علاوہ  سارے کے سارے گورنر ایڈورڈ کالج کے  پڑھے ہوتے تھے اور یہ کام  منصوبہ بندی کے سبب ہوتا تھا۔  

اسی طرح لاہور کے ایچیسن کالج اور ایف سی مشنری  کالج  کا بھی یہی حال ہے کہ وہاں ڈیگال اور شیکسپیر کی تاریخ تو پڑھائی جاتی ہے لیکن حضور صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم  کا تعارف تک نہیں کرایا جاتا۔

اور یہ ہمارے ملک کے بڑے بڑے سب ان مشنری کالجوں اور اکسفورڈ  کے تربیت یافتہ ہیں۔ اور اسی لئے یہ لوگ  اسلام سے زیادہ عیسائیت کے وفادار ہوتے ہیں۔

اور یہی بات مولانا حس جان صاحب بھی کیا کرتے تھے ۔ مولانا صاحب کہتے تھے کہ میں حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں تھا  تو  چارسدہ کے نامور اور مشہور وکیل میرے پاس آئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب کیا  محمد (صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم) مغل بادشاہ اکبر کے زمانے میں پیدا ہوئے تھے، تو  حسن جان صاحب نے ان سے کہا کہ وکیل صاحب مذاق کر رہے ہو یا سچ  میں آپکو معلوم نہیں تو وکیل صاحب نے کہا کہ جی واقعی مجھے  اس بات کا علم نہیں کہ محمد (صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم) کب گذرے ہیں۔

پھر مولانا صاحب نے  اس کم علمی کا سبب پوچھا تو وکیل صاحب نے جواب دیا کہ جی میں نے سارا تعلیم مشنری سکولوں میں حاصل کیا ہے، اور وہاں تو صرف ہمیں  ڈیگال اور جارج واشنگٹن اور ہٹلر کے بارے میں بتایا جاتا ہے، اور محمد عربی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کا تو تعارف تک نہیں کرایا جاتا ۔ یہ وکیل اب اگرچہ عمر رسیدہ ہے لیکن  پشاور کے قریب چارسدہ کا مشہور وکیل گذرا ہے۔اور اب بھی زندہ ہے۔

 اور اسکے بعد انہوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ ہم جو مسلمان ہیں اور اسلام کی رمق ہم میں باقی ہے تو یہ انہیں دینی تحاریک اور مدارس و مساجد کی برکت ہے ورنہ ہم کب کے گمراہ ہوچکے ہوتے۔

اس کے بعد مولانا عبد البصیر شاہ صاحب نے چند باتیں کیں جو کہ حکومتی  بد کرداری پر مشتمل تھیں ،  انہوں نے کہا کہ  پشاور کے علاقہ حیات آباد میں کسی بھی مکان  وغیرہ کا نقشہ  پی ڈی اے کے ڈی جی  خود پاس کرتے ہیں ۔

لیکن حیات آباد کے مساجد کا نقشہ ڈی جی خود پاس نہیں کرتا بلکہ  آئی جی  اور سی سی پی او  سے بھی پاس کرنا پرتی ہے اور یہ صرف اسلئے تاکہ حیات آباد میں مدارس کے بنانے  کی کوششیں ناکام ہوجائیں اور  لوگ دینی تربیت و تعلیم سے محروم رہیں ، حالانکہ اسی حیات آباد میں بے شمار سکول اور کالج حکومتی ایما پر بنے ہوئے ہیں لیکن اگر پابندی ہے تو صرف دینی مدارس پر جو کہ صاف انکی اسلام دشمنی ظاہر کرتی ہے۔

 اور اسکے بعد اختتامی دعا کے بعد  یہ مجلس برخاست ہوئی۔

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on April 3, 2011, in درویش کے قلم سے, عمومی. Bookmark the permalink. 6 Comments.

  1. مدارس کی دوری ہی ہمارے زوال کا سب سے بڑا سبب ہے
    مدارس اور دین نے نہیں دنیا کی ہوس اور آخرت کی بھول کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں
    مدارس جو آج کل صحیح چل رہے ہیں وہ ہیں ہی بہت کم اور ان کے نام پر مولانا ڈیزل جیسے سیاست دان اپنی سیاست چمکا رہے ہیں
    مولانا مولوی عالم ان سب میں بھی فرق ہے
    اللہ اسلام کو طاقت عطا فرمائے
    آمین

  2. Taheem

    آپکی بات درست ہے ۔ یہی دوری ہمارے زوال کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ عافیت کا معاملہ کرے۔

    آپکے تشریف لانے کا بہت شکریہ

    سعد صاحب آپکے لنک شیر کرنے کا شکریہ ۔واقعی بہت افسوس ناک صورت حال ہے ان کالجوں وغیرہ میں۔

  3. ALLAh reham kre hum par AMEEN

  4. اعتفد ان المردارس فقدت دورها الملموس في المجتمع لان العلماء هم يهربون وراء الناس والمطلوب ان يتبعهم الناس ومع الاسف الشديد السبب الرئيسي هم العلماء نفسهم ز

  1. Pingback: کیا دینی مدارس کی ضرورت ہے؟ | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: