ایدھی اور جہالت

جب شیطان کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے نکال دیا تھا، تو اسی وقت شیطان نے قسم کھائی تھی کہ میں آپکے پیدا کردہ انسانوں کو گمراہ کرکے رہونگا۔

اور پھر اسکے بعد وہ اپنے کام میں لگ گیا۔ اور لگا لوگوں کو کافر بنانے۔ جن جن لوگوں پر اسکا بس چلا ،تو بس اسکو تو کافر بنا کر اپنے خالق کا باغی بنا دیا ۔

لیکن جو لوگ پوری طرح اسکے جال میں نہ پھنس سکے تو شیطان یہ کوشش کرنے لگا کہ کسی طرح اسکے نیک اعمال ضائع ہوجائیں۔

چنانچہ بہت سے عابد اور زاہدوں کو اپنے عبادت اور نیک اعمال کے گمنڈ میں مبتلاء کرکے انکے نیک اعمال کو تباہ وبرباد کردیا۔

جناب عبد الستار ایدھی ایک معروف شخصیت ہیں۔ اور انکے فلاحی کاموں کا چرچا ہر جگہ ہے۔ لیکن شیطان تو کسی کا بھائی دوست نہیں ، لھذا اس نے ایدھی صاحب کے ان نیک اعمال کو تباہ کرنے کی ٹھان لی۔

اور ایدھی صاحب اسکے جال میں ایسے پھنسے کہ اسلام کی بنیادی عقائد کے خلاف دل کھول کر بولنے لگے۔

یہ انکی جہالت کے سبب ہے ۔

ایدھی صاحب کا حالیہ بیان اسکی تازہ مثال ہے ۔ احمدی مسلم ایوارڈ ۲۰۱۱ کو اپنا پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کچھ اسطرح کہا ہے :

” انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے ، میں کسی  تفریق کو نہیں مانتا۔جماعت احمدی جو کام کر رہی ہے ، وہ رب کو راضی کرنے کیلئے کر رہی ہے۔میں  اسکی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں۔”

اب جناب یہ بات تو سب کو معلوم ہی ہے کہ جماعت قادیانی کس کو راضی کرنے کیلئے محنت کر رہی ہے۔ آیا وہ واقعی رب کو راضی کر رہے ہیں یا رب کا نام لے کر انگریزوں کو راضی کر رہے ہیں۔

اور یہ باتیں ایدھی صاحب نے صرف اسلئے کہی ہیں کہ اس قادیانی گروہ کی طرف سے انکو  دس ہزار پاونڈ عطیہ میں ملے ہیں۔

جانب ایدھی صاحب آپ تو ہمارے ملک کے ناکارہ حکمرانوں سے بھی کمزور نکلے، ہمارے حکمرانوں نے تو امریکہ سے اتنا روپیہ کھایا ہے کہ شمار ہی ناممکن ہے لیکن اب بھی وہ امریکیوں کے باتوں اور احکامات سے  انکار کردیتے ہیں۔ چاہے جھوٹا انکار ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن عوام کے سامنے  اپنے کمینے پن کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن آپ ہیں کہ فقط دس ہزار پاونڈ کے عوض  مرتدوں کو مسلمان کردیا۔

میرے خیال میں یہ ہندو بھی مسلمان ہونے چاہئے کیونکہ یہ بھی اپنے جھوٹے معبودوں کو راضی کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

ایدھی صاحب کو قادیانیوں کے دس ہزار پاونڈ تو نظر آتے ہیں لیکن پوری مملکت پاکستان کے مسلمان عوام کا چندہ اور اخلاص انکو نظر نہیں آیا ، نا ہی  ایدھی صاحب کو انکے مذہبی جذبات اور عقائد کا احترام  نظر  آیا۔  حالانکہ ہر مشکل وقت میں یہی قوم اسکے شانہ بشانہ کھڑی ہوکر امداد کرتی ہے۔

پھر جس  ہستی کے سبب یہ دنیا کا کاروبار رواں دواں ہے اور جس کے سبب ایدھی صاحب کو  ایمان کی دولت ملی ھے ، اس ہستی کا بھی خیال نہیں کیا ، نہ ہی توہین رسالت کے ملزموں کی خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے، بلکہ ان اسلام اور پاکستان دشمنوں کے خلاف  انہوں کبھی بدعاء بھی کی ہے یا  نہیں؟

ایدھی صاحب اگر آپکو اپنے یہ خدمت خلق کے کام  اللہ تعالیٰ کی دربار میں قبول کروانے ہیں تو اسکے لئے آپکو قران وسنت سے تعلق پیدا کرنا ہوگا، اور اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کی پہچان ہر  اس بندے پر لازم ہے جو کہ اپنے کو مسلمان اور پاکستان کا سپوت کہلوانے کا کواہش مند ہو۔

اسکے ساتھ  کالی کملی والے کے عزت و ناموس پر ہاتھ اٹھانے والوں کی مخالفت کرنی ہوگی۔ ورنہ  انجام بڑا پرخطر ہے۔

باتیں اور بھی ہیں لیکن فی الحال اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔

 

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on April 24, 2011, in درویش کے قلم سے, عمومی. Bookmark the permalink. 10 Comments.

  1. samj nai aty kis par barhusa kare):

  2. ایدھی کے بیان میں کافی عرصے سے پڑھ رہا ہوں. لوگ اسے اسکی داڑھی کی وجہ سے ایک دیندار شخص سمجھتے ہیں اور بعض لوگ تو اس کے نام کے ساتھ مولانا بھی لگا دیتے ہیں حالانکہ یہ درحقیقت ایک بے دین آدمی ہے. ٢٠ سال پہلے اپنے ایک انٹرویو میں اس نے جہاد افغانستان کو قتل و غارت گری قرار دیا تھا. اسکا کہنا یہ تھا کہ میں نے افغان مجاہدین سے پوچھا کہ آپکی کونسی پہاڑیوں میں اسلام نہیں ہے ؟ شنید یہ ہے کہ اسکے ایک بیٹے کی شادی ایک غیر مسلم سے اسطرح ہوئی کہ نکاح اپنی تسّلی کے لئے اس نے فون پر خود کرا دیا اور اپنے اس فعل پر فخر کا اظہار کیا.

    • جی ڈاکٹر صاحب آپ نے درست فرمایا ۔میں نے خود بھی بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ جو اسکے داڑھی کے سبب اسکو مولانا کہتے ہیں۔

      آپکے مفید کمنٹس کا بہت شکریہ ۔آئیندہ بھی آپکے مفید باتوں کا انتظار رہے گا۔

  3. انا للہ وانا الیہ راجعون
    میں بھی اس آدمی کے نام کے ساتھ مولانا ہی لگا تا تھا

  4. ABDUL HYE QURESHI

    afsoooooooos abdul sattar idhi ik bohat bara naam tha mgr kaaaash wo iman ki haqeeqat ko samajh lean ya koi inhee samjhany wala ho kaaaash,,,,,,,,,,

  5. جناب منصور مکرم صاحب آپکےمضمون “ایدھی اور جہالت”نےآنکھیں کھول دی ھیں *آسماں بدلتا ہےرنگ کیسے کیسے*برطانیە کےمسلمان دل کھول کر اسکی چیرٹی کو عطیات دیا کرتے ەیں اب شاید سوچ سمجھ کر دیں گے

  1. Pingback: ایدھی اور جہالت | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: