تین خبریں

اگرچہ مضمون لکھنے کا کوئی خاص ارادہ تو نہیں تھا لیکن چند دن سے کچھ خبریں ایسی پڑھیں،کہ اگر اس پر تھوڑا سا تبصرہ ہوجائے تو برا نہیں ہوگا۔

پہلی خبر:

تو لیجئے جناب پہلی خبر یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی جھادی تنظیم حرکت المجاہدین پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ یہ لوگ اسامہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں ملوث پائے گئے ہیں اور پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ انہوں نے اسامہ کی ڈیل کروائی تھی اور یہ کہ حرکت المجاہدین  ہی اسامہ کیلئے القاعدہ  کے دیگر افراد کے ساتھ روابط میں امداد فراہم کرتی تھی۔

اخبارات میں  تو حرکت المجاہدین نے بھی اس بات کی تردید کی ہے اور پاکستانی اداروں نے بھی اس بات کی تردید کی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب امریکی اہلکار اسامہ کے گھر گئے تھے تو اسی وقت سے سیانوں نے کہنا شروع کیا تھا کہ اب پاکستان کی خیر نہیں کیونکہ امریکی اب روز روز پاکستان کے خلاف  بے بنیاد نئے شوشے چھوڑئیں گے تاکہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ  دباؤ میں رکھ سکیں۔اور ہوا بھی یہی کہ جب پاکستان نے اس معاملے کے ثبوت مانگے تو امریکیوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔

دوسری طرف ایک خبرکے مطابق امریکہ حرکت المجاہدین سے اس بات کا بدلہ لے رہا ہے کہ   انہوں نےماضی میں امریکہ کا یہ مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا کہ حرکت المجاہدین روس کی طرح چین کے صوبے سنکیانگ میں بھی عسکری کاروائیاں شروع کرے۔اور حرکت المجاہدین کی یہ  انکار امریکہ کو برا لگا جس کی  ایک سزا تو اسی وقت انکو ملی کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا اور دوسری سزا کا موقع ابھی امریکہ کو ملا تو اس نے بدلہ لینے کی پوری کوشش کی۔

۔

دوسری خبر :

تو جناب قندہار کے حیوانات پاکستان کی فضاؤں میں گھوم پھر رہے ہیں اور اپنے شکار کو ڈھونڈنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی بتاوں کہ یہ حیوانات امریکہ کیلئے کام کر رہے ہیں ۔اور پاکستان کے مشہور شہروں کے اوپر باقاعدہ  یہ پروازیں کرتے ہیں اور ڈیٹا اکھٹا کرکے امریکیوں کے حوالے کرتے ہیں۔یہ حیوانات ایسی ساخت کے ہیں کہ انکے دُم نہیں ہے۔نیز حکومت پاکستان کے پاس فی الحال تو ان قندھاری حیوانات کی روک تھام کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ لھذا یہ حیوانات نہایت اسانی اور خاموشی کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل کرکے واپس افغانستان چلے جاتے ہیں، جہاں امریکی انکے دیکھ بھال کیلئے موجود ہوتے ہیں۔

 امریکہ اس کوشش میں ہے کہ اسطرح کے حیوانات  اور بھی بنائے جائیں

 ظاہر ہے حیوان کو حیوانیت ہی پسند ہوتا ہے۔

۔

تیسری خبر:

بہت ہی بری خبر ہے ،خبر کو پڑھ کر بے ساختہ میرے دل نے یہ کہا کہ کاش کوئی فدائی یہاں بھی پہنچ جاتا اور انکو دوسرے جہاں کی سیر کراتا۔

  خبر ہی ایسی ہے میں کہتا ہوں پاکستانی معاشرے اور پھر صوبہ خیبر پختون خواہ میں ایسی تربیت کا اہتمام ،جی ہاں یہ ہم جنس پرستوں کی میٹنگ تھی اور ہمارے فلاح و بہبود کے غم میں ہلکان ہونے والی  بی بی سی اردو  نے اسکی تمام روداد کو من و عن شائع کیا ہے جیسے کوئی بات رہ گئی تو کہیں گناہ نہ ہوجائے۔مطلب یہ کہ اس بات کو خوب پذیرائی انہوں نے دی ہے۔

کچھ ہم جنس پرست کراچی سے آئے او رکچھ گند پہلے ہی سے یہاں موجود  اس آنے والی گندگی کا انتطار کر رہے تھے۔

چند ہجڑے اور ایک طوایف اور ایک دو ہم جنس پرست عورتوں کی یہ ایک میٹنگ تھی ، انہوں نے ’بائٹس فار آل‘ نامی ایک پاکستانی غیر سرکاری تنظیم کے زیرِ انتظام تربیتی ورکشاپ میں شریک ہونا تھا۔اس ورکشاپ کا مقصد انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کے ذریعے آزادی نسواں کی تحریک کو فروغ دینا تھا۔

.اسکے علاوہ یہاں میڈیا کی ایک ٹیم بھی موجود تھی، جو کہ انکی گل فشانیوں کی کوریج کر رہی تھی۔ کانفرنس میں یہ بات بتائی گئی کہ کس طرح انٹر نیت کا سہارا لے کر اپنے داستان اور قصے  ویڈیو کی صورت میں پھیلائے جائیں اور اپنے کارنامے لوگوں کے سامنے لا کر معاشرے میں  اس کام کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے۔

ایک طوائف نے کہا کہ میں تو یہ پیشہ چھوڑنے کی کوشش میں تھی اور میرا ارادہ تھا کہ  کمپیوٹر کورس سیکھ کر کسی دفتر میں حلال روزی کماؤں لیکن افسوس کہ یہ طوائف اِن  انسانی شیاطین کی باتوں میں پھنس کر  کہنے لگی کہ آج اس کانفرنس کو دیکھ کر مجھے اپنے پیشے پر فخر ہونے لگا ہے اور میں یہ کام نہیں چھوڑوں گی۔

 افسوس تو ان لوگوں پر آتا ہے جو کہ بات بات میں اسلامی انتہا پسندوں  کو لتاڑ رہے ہوتے ہیں اور انکے منہ غلیظ گالیاں بک رہی ہوتی ہیں لیکن انکو یہ انتہا پسندی کیوں نظر نہیں آرہی ہے۔ کیا یہ اعتدال پسندوں کی انتہا پسندی نہیں ہے ، یہ وہ روشن خیالی ہے جسکی طرف ہمیں بلایا جارہا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے کہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کو انتہاپسند کہا جاتا ہے لیکن ادھر ایک عورت دوسری عورت سے جنسی  اور شیطانی عمل کر رہی ہے تو یہ اعتدال پسندی اور روشن خیالی ہے۔ تف اور لعنت ہے ایسی روشن خیالی پر ۔

میری دلی خوہش ہے کہ ایک فدائی وہاں بھی پہنچ جاتا توسچ کلیجہ ٹھنڈا ہوجاتا۔انہوں نے تسکین ہی حاصل کرنی ہے نا ،تو فدائی ہے نا انکی تسکین کیلئے۔ اےکاش

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on June 26, 2011, in درویش کے قلم سے, عمومی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 13 Comments.

  1. آپ اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت نہیں کر سکتے۔
    اتنی سے برداشت سے کیسے ترقی یافتہ ہوں گے؟
    ہمیں امریکہ اور مغرب سے دوستی کرنی ہے ان کے ساتھ چلنا ہے۔
    امداد تو ان سے لو اور ان کا کلچر برا لگے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی جی۔
    اسی لئے آپ کو انتہا پسند دہشت گرد وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔
    آپ کو روشن خیالوں کا اسلام قبول کرنا چاھئے۔
    ویسے ان روشن خیالوں کا کلمہ کیا ہے؟

    • خواہ مخواہ ساحب یقین جانئے کہ نا تو ہم انکے دوست ہیں اور نا ہی ہم نے انکے پیسے لئے ہیں۔

      جنہوں نے یہ کام کیا ہے وہ تو پہلے سے ہی انکے رنگ مین رنگے جاچکے ہیں۔وہ جب لندن اور امریکہ سے آتے ہیں تو یہی سوچ لاتے ہیں

      اب یہ لوگ ان پر بھی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ان سے دور بھاگتے ہیں ورنہ انکو کراچی اور ملائیشیاء سے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔

      کاکروچ گٹر میں اچھا نظر آتا ہے باہر نکلے گا تو اسکو مارنا حق بات ہے۔

    • Kudos to you! I hadn’t thguhot of that!

  2. خبریں تو کافی ہاٹ ہیں۔
    آخری خبر تو میرے لیے بریکنگ نیوز ہے سچ ایسی جگہوں پر فدائی آتے ہی نہیں۔

  3. ميں کيا لکھوں ؟ اعوذ باللہ من الشيطٰن الرجيم

  4. آپکی خبریں پڑھنے سے دل دکھ میں ڈوب ڈوب گیا۔ آپنے جس انگلستانی ابلاغی ادارے کا ذکر کیا ہے۔ اس بارے میں یہ بات بہت سے فورمز پہ اٹھا چکا ہوں کہ یہ ادارہ پاکستان کے اندر بیک وقت مخبر اور تخریبی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ اگر ہماری بے وقوف حکومت کسی وجہ سے مجبور ہے تو کم از کم اس ادارے کو لگامیں نہیں پہنائی جاسکتیں تو اس کا یوں پاکستان کے اندر آزادانہ کردار کو محدود کیا جائے، کہ واللہ پاکستان کے بارے جو یہ ادارہ خدمات انجام دے رھا ہے یہ دشمنی پہ مبنی حرکات کسی طور پہ صحافت کے زمرے میں نہیں آتیں،

    یہ ادارہ وہیسے ہی انگریز یہودیوں کے زیر اثر تمام مسلم دنیا کے نوجوانوں اور اپنے ممالک سے برگشتہ لوگوں کو دباؤ اور احساس کمتری میں مبتلاء رکھنے میں تاریخی طور پہ نہائت گھناؤنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اور اب پاکستان سے بھاگ کر انگلستان میں مقیم ہونے والے قادیانی بھی اسمیں اردو سیکشن میں شریک ہوچکے ہیں۔

  5. خالد حمید

    جناب،
    آپ نے شاید توجہ نہیں دی، ورنہ آپ کو پتہ چلتا کہ اس طرح کے سمینار اور ورک شاپ ہوتے رہتے ہیں۔
    تاکہ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کیا جاسکے۔
    اور بی بی سی اس طرح کی ہر خبر پر نظر رکھتی ہے

    • جی اسی لئے تو میں بھی کہتا ہون کہ اسطرح کے سیمینار ہوتے رہتے ہین لیکن کاش ایسی جگہوں پر فدائی حملے بھی ہوتے رہیں تو اچھا ہوتا۔ بہت مزا اہا اہا۔ بہت مزا آئے گا۔

  6. ان خبروں پر کیا تبصرہ کروں. جب خبریں کسی نی بات سے محروم ہوں تو تبصرہ کرنا بھی طبیعت پر بوجھ کا باعث بن جاتا ہے. دجالی نظام نے آپکو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے یہ خبریں ان تین اطراف کی نمائندگی کر رہی ہیں.

    • ڈاکٹر صا حب دراصل میرا مقصدیہ تھا کہ میں ان خبروں پر تبصرہ سا کر لوں اور وہ میں نے کر ہی لیا ہے۔

      سچ کہا آپ نے ،دجالی قوتیں ہمارے اطراف مین ڈیرے ڈال چکی ہین اور دجال کی آمد کیلئے راہ ہموار کرنے میں لگے ہوئے ہیں

  1. Pingback: تین خبریں | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: