وہ عورت

وہ میرے دوست کے محلے میں رہتی ہے ۔اسکا خاوند پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔اکثر میرے سے ملتا رہتا ہے۔اور گپ شپ ہوتی رہتی ہے۔محکمہ  بہبود آبادی کے مشورے کے مطابق اسکے تین بچے ہیں

  جن میں سے ایک بچہ اور دو بچیاں ہیں۔

اسکا یہ بچہ آج کل شائد ایم بی اے کر رہا ہے۔اور بچیاں میٹرک اور ایف ایس سی میں ہیں۔

تو ہوا کچھ یوں کہ ایک دن دوپہر کے وقت اس عورت نے

میرے دوست کے گھر گھنٹی بجائی۔اسکے ساتھ ہی محلے کے ایک دو اور گھروں کی گھنٹی بھی بجائی۔جو کہ تقریبا سارے میرے جاننے والے تھے۔ میرے دوست نے باہر آکر پوچھا کہ بی بی کیا مسئلہ ہے؟

تو عورت نے جواب دیا کہ ہمارے گھر کے پاس جو چھوٹی سی دوکان ہے ،تو اسمیں آیس کریم بیچنے والے نے باہر سڑک پر بینچ لگا کر تیز آواز میں میوزک لگائی ہے جو کہ ہمارے شان،عزت اور پردے کے خلاف ہے۔لھذا اسکو بند کراو۔

میرے دوست نے کہا کہ بی بی جب آپکا شوہر یونیورسٹی سے گھر آجائے تو وہ بہتر انداز میں اس دوکاندار سے بات کر لے گا، جس پر اس عورت کو غصہ آگیا اور کہنے لگی کہ کا میں عزت دار نہیں ہوں اور آپکی بہن نہیں ہو ں؟

جس پر میرے دوست نے دوکاندار کو میوزک سے منع کیا اور بڑی مشکل سے اسکو اپنے اس فعل سے منع کیا کیونکہ قریب تھا کہ وہ دوکاندار میرے دوست سے لڑائی کرتا۔

یہ تو تھی اس عورت کی عزت اور خوداری والی بات۔اب آگے کی سنیں

آج ایک ساتھی ملا جو کہ اسی عورت یعنی پروفیسر صاحب کا پڑوسی تھا ۔ اس نے بتایا کہ اس پروفیسر صاحب کی بڑی بیٹی امریکہ سے واپس آگئی ہے۔

میرا تو خیال تھا کہ کہیں انکے رشتہ دار ہونگے اور وہاں اس نے تعلیمی سال گذار ا ہوگا ، لیکن اس دوست نے بتایا کہ نہیں بلکہ ایک امریکی پروگرام کے مطابق ایک یہودی خاندان میں یہ اکیلی سال گذار کر واپس آگئی ہے۔

اُف کیا بتاوں میرے ذہن میں تو دھماکے ہونے لگے،اور میرے آنکھوں کے سامنے ایک امریکی خاندان کے ہر ہر فرد کے مناظر زندگی ایک ایک کرکے گذرنے لگے۔ اور چونکہ یہ بچی میرے سامنے بڑی ہوئی تھی ،لھذا مجھے شدید دھچکا لگا۔

مجھے اس دوست نے دلاسہ دینے کے انداز میں کہا کہ پریشانی کی بات نہیں وہ خاندان ایسے بچوں کی بہت قدردانی اور میزبانی کرتے ہیں۔اور بچی کی عزت کا خیال رکھتے ہیں۔

لیکن ۔۔۔۔افسوس۔۔۔۔۔وہ میرے غم کو کم نہ کرسکا۔

میں نے اسکو کہا کہ اس بچی کو میں جانتا ہوں،اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لڑکا یا لڑکی جب میٹرک یا ایف اے ، ایف ایس سی لیول پر ہوتی ہیں تو وہ زندگی کے کتنے خطرناک اور نازک موڑ پر ہوتی ہیں،

اور اس دور میں لڑکا یا لڑکی کتنی آسانی سے بہک سکتا ہے۔اور شیطانی شکنجے میں پھنس سکتا ہے۔

میں اپنے ساتھی سے پوچھا کہ تم بتاؤ اگر ایک محفل میں سارے سیگرٹ پینے والے ہوں اور ایک بندہ صرف انکے ساتھ بیٹھا رہے تو وہ برابر سیگرٹ کے دھوئیں سے متاثر ہوگا کہ نہیں؟

ایک امریکی خاندان میاں بیوی ،اور انکے لڑکے اور لڑکیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ اس بچی کی ہم عمر لڑکیاں تو سکرٹ اور نیکر پہن کر بازار ،کلبوں اور دیگر گندگیوں کے ڈھیر میں جائیں اور یہ لڑکی بھی انکے ساتھ ہو اور اس نے شلوار قمیس یا مشرقی لباس پہنا ہوا ہو؟

کیا یہ ممکن ہے کہ نہانے کیلئے وہ اس مشرقی بچی کو ساتھ لے جائیں اور وہ نہانے کے مخصوص گندے لباس میں ہوں اور یہ مشرقی لڑکی اپنے لباس میں ؟

کیا یہ ممکن ہے کہ یہ ایف ایس سی کی عمر کی مشرقی لڑکی ایک سال ان گندے ،چالباز ،دھوکے باز اور بے حیاء انگریزوں کے گھر میں گذار کر انکے آزادی اور بے راہ روئی سے متاثر نہ ہوں؟

کیا یہ ممکن ہے کہ وہ انگریز لڑکیاں تو سکرٹس میں گھومیں اور یہ مشرقی لڑکی اپنے لباس میں؟

آخر کہاں تک یہ لڑکی نہیں نہیں کرتی رہے گی ۔

آخر کب تک وہ پردے پر اسرار کرئے گی۔

آخر تب تک انکے رنگ میں رنگنے سے اپنے آپ کو بچائے گی۔
کب تک مشرقی روایات کے مطابق اپنے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہے گی۔

یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک سال تک میٹرک یا ایف اے ، ایف ایس سی لیول کا بچہ یا بچی ایک یہودی فحش اور بے حیاء خاندان میں گذارے اور ان سے متاثر نہ ہو، یا انکے ساتھ پروگراموں اور بے حیاء محافل میں شریک نہ ہو۔

کب تک ۔۔۔اخر کب تک وہ بچ کر رہے گی۔۔۔۔۔

اُف سر چکرا رہا ہے ۔انکھیں پر نم ہیں ۔دل اندیشوں سے بھر ہوا ہے۔ کیا کروں سمجھ نہیں آرہی ۔
کالم تو لکھ لونگا لیکن کیا اس سے میرا غم کم ہوجائے گا؟

کیا کالم لکھنے سے میرے اندیشے غلط ثابت ہونگے؟

نہیں نہیں مجھے تو ایسا نہیں لگ رہا۔

غصہ اس عورت پر آرہا ہے کہ مردوں کے سامنے اس ڈھٹائی سے اپنے عزت اور خود داری کی باتیں کرتی تھی اور بے شرم بن کر محلے میں مردوں کے ساتھ منہ مارتی تھی لیکن جب اسکی بیٹی کی بات آگئی تو آرام سے اپنی بچی کو اغیار کے گود میں پھینک ڈالا

ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی انسان کا بنیادی حق ہے۔معلوم نہیں کیسے لکھوں کہ کتنے پاکستانی بچوں اور بچیوں کو یہ حق ملا ہوگا۔مشرقی لڑکی اگر لڑکوں کے ساتھ نہ گھومے پھرے لیکن اگر  یہ  لڑکیاں ہی انکو یہ ( بنیادی حق) مہیا کریں تو پھر کیا ہوگا۔

دراصل امریکہ نے پاکستان میں فل برائیٹ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہوا ہے۔جس کے ذریعے مختلف سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے لڑکوں کو وہاں تعلیم کے نام پر بلایا جاتا ہے۔اور پھر ان سکول اور کالجوں کے بچوں  کو وہاں کے خاندانوں کے ساتھ انکے گھروں میں خاندان کے ایک فرد کی حیثیت سے ٹھرایا جاتا ہے اور یہ مخصوص گھرانے ہوتے ہیں جن کو باقاعدہ یہ تربیت فراہم کی جاتی ہے کہ تم لوگوں نے اس مشرقی بچے یا بچی کو کس طرح سے اپنے ماحول سے متاثر کرنا ہے تاکہ وہ مشرقی بچہ اپنے مشرقی اخلاق وعادات کو چھوڑ کر تمھارے ہی گُن ہر جگہ گائے اور تمہارے خاندان کے اطوار و عادات  اور مغربی تہذیب  انکے

رگ و پے میں پوری طرح سرائیت کرجائے

اور یہ فل برائیٹ پروگرام ایک طے شدہ منصوبہ ہوتا ہے ۔ اس پاکستانی بچے کو وہاں اس خاندان کے ماحول میں ایک سال تک رہنا ہوتا ہے ۔ اس ایک سال میں اسکو اس خاندان کے افراد کے ساتھ گھل مل کر زندگی گذارنا پڑتا ہے  اور یہ خاندان والے بھی یہی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح یہ پاکستانی بچہ ہمارئے ماحول سے مانوس ہو کر ہماری طرح بن جائے۔

لھذا خدارا اپنے ان چھوٹوں بچوں کو گمراہی سے بچالیں ،اور انکو جھنم کا ایندھن نہ بننے دیں۔
تعلیم ہی حاصل کرنی ہے تو جب بڑے ہوجائیں اور انکی بنیاد مضبوط ہو جائے تو پھر اگر بھیج دیں تو کوئی بات ہے لیکن اس کچی عمر میں ان بچوں کو وہاں بھیجنا اپنے پاوں پر کلھاڑی مارنا ہے۔

اسی طرح کے پروگرام روس نے بھی افغانستان میں شروع کئے تھے۔ایک قاضی

 صاحب نے اپنے ایک نا پختہ اور کمزور بنیاد والے بیٹے کو روس بھیجا تعلیم کیلئے، تو وہ لڑکا جب واپس آگیا تو بس نام اسکا مسلمانوں والا تھا باقی کسی مرتد سے کم نہ تھا۔

ایک دن موقع پا کر گھر کے قریبی فرد سے اس نے منہ زبردستی کالا کیا۔جب بعد میں اس سے پوچھا گیا کہ ظالم تم نے کیوں ایسا کیا؟

تو اس نے جواب میں کہا (اُف ۔۔۔اسکا جواب کم از کم مجھ سے نہیں لکھا جا رہا)

اسکی تربیت ہی ایسی ہوئی تھی کہ محرم اور غیر محرم میں فرق محسوس نہیں کرتا تھا،تو یہ برکات تو ہونگی کچے عمر میں اغیار کی تربیت کی۔

یہ سارئے دجالی منصوبے ہیں۔ شیطان کے جال ہمارے ارد گرد ہیں ہمارے لئے ہی بچھائے ہوئے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ آنکھیں بند کرکے انجالوں میں پھنس رہے ہیں ، پھر کہتے ہیں مولوی صاحب دعاء کرو ،بچہ ایسا ویسا ہے۔

ارئے بد بخت کم عمر اور نا پختہ بچے کو جب

(فل برائیٹ)کر نے امریکہ بھیج رہے تھے کسی حقیقی سیانے سے مشورہ کیا تھا؟

کسی دل کے بینا آدمی کی صحبت میں گئے تھے کہ اپنے بچے کے بارئے میں اسکے ساتھ مشورہ کرتے؟ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے کسی حقیقی وارث کے پاس گئے تھے رہنمائی حاصل کرنے ؟ارئے  کمبخت بچے کی بنیاد کو مضبوط بنانے سے قبل ہی اس پر عمارت کھڑی کرنے کا سوچا۔تو اب شکایت اور واویلا کیسا ، عزت اور ابرو لوٹنے کی فریادیں کیسی۔

کسی نے بھی گندم بو کر مکئی نہیں کاٹی۔

ہاں اگر ایک بچہ کی ایسی تربیت کی ہے کہ اس پر اغیار کی دجالی محنتیں کارگر ثابت نہیں ہوتی تو بے شک بھیجو اور پھر نتیجہ دیکھو۔کیسے وہ خاندان والوں میں سے مسلمان بناتا ہے

ایسے ایسے شیر بھی ہیں جو گیڈروں کے درمیان رہ کر بھی شیر ہی ہوتے ہیں۔ وہ مرد کے بچے ہوتے ہیں۔قران مجید میں ان لوگوں کیلئے لفظ (رجال) کا آیا ہے یہی اصل مرد کے بچے ہیں۔اور  انکی تربیت ایسی ہی ہوتی ہے کہ شیطان انکو دیکھ کر ہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شیطان دیکھ کر ہی راستہ بدل دیتا تھا اور بھاگ جاتا تھا۔

یہ سارا تربیت کا کمال ہے۔آج بھی حضور صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حقیقی وارث اور علماء موجود ہیں، اور امریکہ اور دجالی قوتوں کو بھی یہ بات معلوم ہے ،اسی لئے تو وہ اسکے ختم کرنے کے درپے ہیں۔

جس مورچے کو ختم کرنے میں دشمن زیادہ قوت لگائے تو سمجھ جاؤ کہ یہی اہم مورچہ ہے ، جس سے دشمن خوف کھاتا ہے۔اور دشمن خوف کیوں نہ کھائے ،انکے سارئے منصوبے اللہ تعالیٰ کے یہ شیر الٹ دیتے ہیں۔ میرے چند دوست  جن کی دینی اور دنیاوی بنیاد مضبوط ہوتی ہے جب ان کفار کے ملکوں میں جاتے ہیں تو کئی لوگوں کو جھنم کی آگ سے بچا کر جنت کی ہمیشہ راحت والی زندگی کی طرف لاتے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ جب یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو روتے ہیں اور گلہ کرتے ہیں کہ پہلے کیوں نہیں آئے ،ہمارے ماں باپ جھنم کی ایندھن بن کر دنیا سے گئے ہیں۔

لیکن جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہ کام ہر کسی کے بس کا نہیں ، جن کو قرآن مجید میں رب کائینات  نے رجال (مرد) کہا ہے ،وہی دجالی اور شیطانی منصوبوں کو پلٹا کر الٹا انکے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

میرا ایک نادان دوست ایک بار مجھ سے کہہ رہا تھا کہ جب ہم انکو مسلمان بنا رہے ہیں ۔تو اگر انہوں نے ہمارے چند ایک کو اپنے رنگ میں رنگ لیا تو کیا برا ہے؟اور یہ تو انصاف بھی نہیں کہ ہم تو انکو تو اپنے پرانے عقیدے سے لا کر دائرہ اسلام میں داخل کرادیں لیکن اگر انہوں نے چند مسلمانوں کو مرتد کیا تو  ہم اس پر واویلا کریں۔

میں نے اسکو کہا کہ اگر ایک گاؤں میں سارئے لوگ ہیرئنچی ہیں اور پھر ڈاکٹروں کی ٹیم انکے پاس گئی اور ان میں سے چند ایک کا علاج کراکے انکو صحت مند اور تندرست انسان بنایا کہ اسکی نشے کی عادت ہی چھوٹ گئی ۔تو اب اگر یہ ہیروئنچی  کہنے لگے کہ ہمارے چند آدمیوں کو تو تم نے ہم سے الگ کرکے اور ہمارے معاشرے سے کاٹ کر اپنے صحت مند معاشرے کا فرد بنایا ،اب ہمیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ ہم بھی تم میں سے چند ڈاکٹروں کو نشی اور ہیروئنچی بنائیں۔

تو کیا اسکو کوئی انصاف کہے گا؟

اسی طرح ان کافروں اور غیر مسلموں کی مثال ہے۔

بقول ایک شاعر:

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on September 17, 2011, in درویش کے قلم سے, عمومی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 21 Comments.

  1. آپ نے جو پوسٹر لگایا ہے اس سے لگتا ہے آپ بھی طالبان کے حماءتی ہیں۔ کمال ہے آپ نے اس بات پر غور کیا کہ اس عورت کو فل براءٹ اسکولرشپ کی ضرورت کیوں مھسوس ہوءی۔ اگر آپ کی طرح کہ لوگ ان طالبان کی حماءت جاری رکحیں گے جو لڑکیوں کے اسکول بم سے اڑا دیتے ہیں تو لوگ اسکول بھی امریکہ میں تلاش کریں گے ۔ اور براہ کرم یہ بھی بتا دیں کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ فل براءٹ اسکولرز کو ھر صورت کسی فیملی کے ساتھ رکحا جاءے گا

    • محترم فارغ صاحب :

      بلاگ پر خوش آمدید اور تشریف آوری کا شکریہ۔
      پہلی بات تو یہ کہ میں طالبان کا مشروط حامی ہوں ،یعنی جو کام انکے شریعت کے موافق ہو تو ان کاموں میں انکا حامی اور جو کام خلاف اسلام ہوں تو ان کاموں میں کھل کر طالبان کی مخالفت کرتا ہوں اور کرونگا ۔ان شاء اللہ

      نیز میں نے وہ پوسٹر ہٹا دیا ہے تاکہ کوئی دوسرا بھائی اس پوسٹر کے سبب غلط فہمی میں نہ پڑئے۔

      دوسری بات یہ کہ وہ لوگ سکول کیوں اڑا تے ہیں تو میرے خیال میں اس کا فلسفہ اگر خود ہی یہ کام کرنے والوں سے پوچھ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔

      تیسری بات یہ کہ اس طرح کے سسٹم کے بارئے میں مجھے ایک صحافی کے کالم سے بھی کافی معلومات ملی تھی، آج تلاش کے باوجود نہ پا سکا۔نیز جو بچے سکول یا ایف اے ،ایف اے سی لیول کے ہوں تو ان فل برائیٹ والوں کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ اس بچے کو دیار غیر میں بھی گھریلو ماحول ملے اور ہاسٹلوں کی جنجال سے انکو دور رکھا جائے ، اسی لئے فل برائیٹ والوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے کہ وہ انکو کسی یہودی اور اس کام کیلئے خصوصی تربیت یافتہ گھرانے میں ٹہرانے کا بندوبست کریں۔ یہ کسی ایک بچے یا بچی کی کہانی نہیں بلکہ ہر سال اس طرح میٹرک ،یا ایف اے ، ایف اے سی لیول کے بچے ، چند یونیورسٹی لیول کے بڑے لڑکے ، کچھ ایلیمنٹری لیول کے ٹیچر وغیرہ کو ہر سال یہ لوگ بلاتے ہیں اور انکے عمر کے مطابق انہوں نے انکی رہائیش اور پڑھائی وغیرہ کا بندوبست کیا ہوا ہوتا ہے۔

      فل برائیٹ والے پاکستان آنے کے بعد بھی انکو چھوڑتے نہیں لکہ مختلف غیر ملکی این جی اوز کے شکل میں ان جیسے بچوں اور مردوں ،عورتوں سے اپنے کام نکالتے رہتے ہیں۔اور وہ یہ بات برملا کہتے ہیں کہ ہم نے جو آپکو سکھایا ہے انکو اپنے ملکوں میں اور اپنے معاشرے میں آپ نے کرنا ہے تاکہ آپ لوگوں کے معاشرتی زندگی میں تبدیلی لائی جاسکے۔

  2. آپ کی پوسٹ بہت عمدہ ہے کچھ باتوں سے اختلاف کے باوجود۔۔۔
    لڑکی کیا لڑکے کو بھی کچی عمر میں ایسے ماحول میں نہیں بھیجنا چاھئے۔
    میرا تجربہ ہے کہ انسان جب بری شے روزانہ دیکھتا ہے تو اسے برا محسوس ہونا ختم ہو جاتا ہے۔
    شروع میں ہمیں منی سکرٹ دیکھ حیرت ہوئی اور کچی عمر کی وجہ سے اشتیاق بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب کسی کو ننگے دیکھ کر بھی حیرت نہیں ہوتی اور سرعام بے حیائی دیکھ کر بھی کچھ محسوس نہیں ہوتا۔
    کسی کو شراب میں مد ہوش پڑا دیکھ کر کچھ محسوس نہیں ہوتا۔
    بس اتنا معلوم ہے کہ مرنا ہے اور اللہ میاں کو منہ دکھانا ہے۔
    ہم مسلمان ہیں۔۔ہمیں چھپی اور نظر آنے والی ہر برائی سے بچنا ہے۔
    لیکن میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کتنے گناہ بے لذت لا علمی میں روزانہ ہوتے ہوں گے۔

    • یاسر صاحب
      تشریف لانے اور پسندیدگی کا شکریہ۔

      ماشاء اللہ آپ تو دیار غیر میں رہ کر بھی ایسے مضبوط ایمان والے ہیں کہ اسلامی ملکوں میں بھی ایسا صاحب ایمان اگر کم نہیں تو زیادہ بھی نہیں ہیں۔اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔

      لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو ان تاریکیوں میں اس حد تک پھسل گئے ہیں کہ انکو اس تاریکی سے نکالنا ایک خاصا مشقت طلب کام ہے۔۔

      اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  3. آپکی سوچ پر افسوس ہوا.

  4. ماشا اللہ ۔ اچھی پوسٹ ھے

  5. پڑھ کر بہت دکھی ہورہا ہوں۔

  6. ہم اپنے اقدار پر شرمندہ اور اغیار کو رشک آمیز انداز سے دیکھنا شروع ہو چکے ہیں
    دنیا اور دین دونوں کو ساتھ چلنا چاہیئے مگر چند قواعد و پابندیاں لاگو ہوتی ہیں
    اسلام سے بہتر انداز انہیں سمجھنے کا ہو ہی نہیں سکتا

    اسلام نے پردے اور عبادات کا جو انداز سکھایا
    1500 سال ہونے والے ہیں سائنس اب کافی کچھ سمجھ رہی ہے
    جو پیدائشی مسلمان ہیں وہ اپنے اسلام سسے ہٹ کر جدید اسلام کی جانب جا رہے ہیں جو ایسی مساوات کا درس دے رہا ہے
    جو اسلام کو تبدیل کر رہا ہے
    محاورات ایسے ایجاد ہونے لگے ہیںکہ سن کر اچھا تو لگتا ہے مگر اس کی گہرائی میں جائیں تو ۔۔۔۔۔۔۔

    مثلاً صرف یہی دیکھ لیں

    جیسا دیس ویسا بھیس

    ابھی اس کی گہرائی میں وہ لوگ نہیں اتر سکتے جن پر بیتی نہ گئی ہو

    مشرق کے مشرقی اقدار میڈیا کی وساطت سے بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں

    اور کچھ ایسے بھی نو مسلم ہیں کہ جو اسلام کو واقعی سمجھ کر مسلمان ہو رہے ہیں

    دیکھنا ہے اسلام تو ان کی نگاہ سے ان کی شاگردی سے سیکھیں

    نہ کے باپ دادا نے پیدا کر دیا مسلمان تو اسلام میرے باپ کا

  7. ان یہودیوں کی یہ مجال کہ مفت میں مسلمانوں میں علم بانٹ رہے ہیں،،،،، انہیں ہمت کیسے ہوئی مسلمانوں کو تعلیم فراہم کرنے کی ۔۔

  8. درست تجزیہ کیا آپ نے۔ آجکل میرا ایک دوست اس پیکج کے تحت امریکہ گیا ہوا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ وہاں ایک مقامی فیملی کے ہاں ٹھہرنا پڑتا ہے۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔ مفت میں تو کوئی کسی کو روٹی پانی نہیں دیتا ، سیر نہیں کرواتا۔ اس کا کوئی مقصد تو ضرور ہو گا۔

  9. bhot afsoos hua ye parh kr

  10. بہت خوب لکھا درویش خراسانی بھائی

  11. اسلام وعلیکم
    درویش خراسانی،
    آپ کی تحریر پڑھ کےطمانت کا احساس ہوا کہ آخر کچھ مسلم ابھی بھی زندہ ہیں ورنہ اکثر یا تو مردہ ہیں یا مردوں سے بھی بڑھ کر اس زمین پر ماسوا بوجھ کے اور کچھ نہیں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہر مسلم میرے سمیت کامل ہے ، ہم میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ خامیاں تو ہیں ہی اور ان خامیوں پے پورا قابو تو نہیں پایا جا سکتا لیکن کم ضرور کی جا سکتی ہیں جس کا ایک کلیہ میں نے اپنے لیئے یہ دریافت کیا ہے کہ “اگر میں کوئی اچھا کام نہیں کر سکتا تو برا کام کرنے کا بھی میرا کوئی حق نہیں” اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہی کلیہ وہ لوگ بھی اپنا لیں جنہوں نے آپ کی تحریر پے بے مقصد اور لا یعنی نقطے نکالے ہیں ، نہ صرف یہ لوگ بلکہ ایسے ہی دیگر مریضوں کے لیئے مجرب نسخہ ہے شرط صرف اتنی ہے کہ اسے پوری ایمان داری اور خلوص سے استعمال کیا جائے مکمل شفا کا تو کچھ نہیں کہہ سکتا مگر افاقہ ہونے کی امید ہے ۔

  1. Pingback: وہ عورت | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: