کیا فرماتے ہیں ملا محمد عمر صاحب ….؟؟؟؟

کل  ایک ساتھی کے ساتھ واک کر رہا تھا ۔باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ اس بار تو عید کے موقع پر تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا محمد عمر صاحب نے بھی  ایک پیغام بھیجا ہے۔

ہمارئے اندر بھی تجسس کے جراثیم سر اٹھانے لگے کہ دیکھتے ہیں کہ  ہمیں کیا کہنا چاہتے ہیں ملا عمر صاحب؟

تو آئے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کیا فرمایا ہے۔۔۔۔۔

پیغام پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on November 6, 2011, in گل دستہ (کاپی پیسٹ). Bookmark the permalink. 3 Comments.

  1. ’اشتہاری ملزمان وزیرستان میں روپوش ہیں‘
    آخری وقت اشاعت: بدھ 9 نومبر 2011 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

    رپورٹ کے مطابق ان افراد کے کالعدم تنظیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے
    پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہے۔

    یہ افراد ملک کے مختلف علاقوں میں قتل، اغواء برائے تاوان اور مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

    اسی بارے میں’جیلیں عسکریت پسندی کی نشوونما کا زرخیز میدان‘’شدت پسندوں کو سُدھارنے کا جامع منصوبہ‘ شدت پسندی،’اکیس پر مقدمہ فوجی عدالت میں‘
    متعلقہ عنواناتپاکستان, دہشت گردیان وارداتوں کے بعد جرائم پیشہ عناصر قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے جہاں وہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیمیوں میں شامل ہوئے جو انہیں قتل، اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین وارداتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    گزشتہ دو ماہ کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

    قتل، اغواء اور مسلح ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ان ملزمان کو پولیس گرفتار نہیں کرسکی جس کے بعد متعلقہ عدالتوں نے انہیں ’اشتہاری‘ قرار دیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان اشتہاری ملزمان کی زیادہ تر تعداد پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں روپوش ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹس میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کالعدم تنظمیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے ان تنظیموں کے پاس فنڈز کی کمی ہوگئی ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان اشتہاری ملزمان کو اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں پناہ لینے والے اشتہاری ملزمان میں اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جن کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ میں ایسے اشتہاریوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی عدالتوں میں اشتہاری قرار دیے جانے والے ملزمان کی تعداد چار سو سے زائد ہے جو خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    خفیہ اداروں کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اشہتاری ملزمان میں سے کچھ شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں ہلاک بھی ہوچکے ہیں جن میں زُرزمین، عطا اللہ، سعید عباسی، شمیم جٹ، ظفیر احمد، انصر محمود اور ہدایت خان شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ افراد پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں قتل اور بینک ڈکیتی کے مقدمات میں اشتہاری قرار دیے گئے تھے تاہم اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان افراد کو عدالتوں نے کب اشتہاری قرار دیا تھا۔

    خفیہ اداروں کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان افراد کے کالعدم تنظیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے۔

    ان رپورٹس میں پولیس کی جانب سے ان افراد کی گرفتاری میں حائل رکاوٹوں کے علاوہ پولیس کی بے بسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود سمیت دیگر سات افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے صرف ایک اہلکار نے پشاور جا کر قبائلی علاقوں کے سیکریٹریٹ میں عدالتی وارنٹ جمع کروائے جنہیں اس علاقے میں آویزاں نہیں کیا گیا جہاں بیت اللہ محسود یا دیگر ملزمان رہائش پذیر تھے۔

    اس ضمن میں پولیس کا موقف ہے کہ تین پولیس انسپکٹرز کو ان عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے وزیرستان بھجوایا گیا تھا جو متعلقہ علاقے میں اشتہار لگا کر آئے تھے۔

    بے نظیر بھٹو قتل مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے سات ملزمان میں سے بیت اللہ محسود سمیت پانچ افراد ڈرون حملوں اور فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ خفیہ اداوروں کی اطلاعات کے مطابق دو ملزمان ابھی زندہ ہیں جن میں اکرام اللہ اور فیض محمد شامل ہیں۔

    • ویسے میرے خیال میں ان ملزمان نے وزیرستان جا کر ایک غلطی کی ہے۔ یہ لوگ اگر کراچی چلے جاتے اور وہاں اپنی خدمات ۔۔۔۔۔۔۔۔ کو فراہم کرتے تو آج یہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر عیش کر رہے ہوتے۔

      اس خاکی وزیر ستان میں کیا رکھا ہے؟؟؟؟؟؟؟

      یا پھر انکو وزیر داخلہ صاحب سے ڈیل کرنی چاہئے تھی۔۔۔۔کیونکہ بقول ذولفقار مرزا ڈیل کے بدولت بڑے بڑے قاتل جیلوں سے رہا ہو کر باہر پھر رہے ہیں۔

      اگر یہ بھی نہ کرسکتے تو کم از کم این آر او ہی حاصل کرتے ، ارے جو کرتے ہیں ان میں مسٹر ٪10 کا حصہ شامل کر لئتے تو بس مزے ہی مزے ہوتے۔

      میرے خیال میں یہ تمام کام جو یہ ملزمان کر رہے ہیں ، کچھ غیر قانونی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کاموں کی تو اسلام آباد اور خفیہ اداروں کی طرف سے کھلی اجازت ہے۔فرق صرف وہی کہ شھروں میں ایسے کاموں کا (ٹیکس) وصول کیا جاتا ہے اور ایجنسی میں یہ (ٹیکس) سے بچ جاتے ہیں۔

      اگر ان لوگوں کو مارنے کیلئے ڈرون کا سہارا لیا جاتا ہے تو کیا کل یہی ڈرون اسلام آباد اور جی ایچ کیو میں بھی کاروائی کرئے گا؟؟؟؟؟
      ظاہر ہے دونوں قسم کے لوگوں میں کچھ فرق تو نہیں ۔

      بےنظیر کو کس نے مارا ہے ۔۔۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے(سب کو پتہ ہے)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: