بھوت انکل اور بند دروازے

ذرا تصور کیجئے کیا ہی عجیب وقت ہوگا جب آپ گاڑی کے اندر محصورہوں اور کسی خرابی کی وجہ سے گاڑی کے دروازوں کے لاک کھلنے سے انکاری ہوں۔اسی اثنا میں کسی غیرمری مخلوق(بھوت انکل) کی موجودگی کا ہلکا سا احساس ہو،اور وہ بھی آپ سے چھیڑچھاڑ کا ارادہ رکھتا ہو۔

شائد کئی ایک کی تو فقط اس تصور سے ہی چیخیں نکل جائیں۔ ۔ ۔

میرے خیال میں اس سے اگے نہیں سوچھنا چاہئے،اسلئے اب آتے ہیں موضوع کی طرف۔تو جناب عالی ہوا یہ کہ ایک دن میں صبح جب  دفتر گیااور وہاں معمول کے مطابق اپنے کام سر انجام دینے لگا تھا کہ ایک ساتھی پر نظر پڑی، جو کہ ہمارے ساتھ ہی ادارے میں کام کرتا ہے،اور گذشتہ دو تین ہفتوں سے اسکو ایک ایسا  مسئلہ درپیش  ہے ،جس کے سبب اسکی راتوں کی نیند  اُڑی تھی۔ اور وہ بے چارہ  مجھ کو ہی اپنا مسیحا سمجھ کر مجھ سے مدد کا خواہاں تھا۔۔

میں نے اس بندے کو  دلاسا دیا اور  ازراہ ہمدردی اس سے  گذشتہ بیتی رات کا احوال پوچھا،اور ساتھ ہی چھٹی کی وقت اسکے لئے کچھ کرنے کی ٹھانی۔

دراصل مسئلہ اسکا یہ ہےکہ وہ  نوکری کے ساتھ ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے ،اور اردو میں پشاور یونیورسٹی سے ایم فل لیڈینگ ٹو پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔چنانچہ بحیثیت طالب علم  یونیورسٹی  نے انکو ایک کمرہ الاٹ کیا ہو ا ہے ،جسمیں   وہ اپنے دیگر رومیٹس  کے ساتھ رہائیش پذیر ہے۔imagesn

اب ہوا یہ ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے  مسلسل رات کو کوئی صرف ہمارے اس دوست کو جگا دیتا ہے،حالانکہ انکے دیگر رومیٹس خواب  خرگوش کی نیند سوتے ہیں۔لیکن ہمارے یہ دوست ہیں کہ  انکی رات کی نیند اُڑی ہوئی ہے۔چنانچہ کچھ غور کے بعد انکو یہ شک ہوا کہ اس کمرے میں جنات ہیں،جو رات کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔اور ہوں بھی کیوں نہ کہ سینکڑوں کمرے ہیں یونیورسٹی میں اور کئی برسوں کے پرانے  ہاسٹلز ہیں،وہ بھی چھٹیوں میں ایسے ویران کہ بندہ دن کے اجالے میں بھی ڈر جائے۔تو ایسی جگہوں پر  بعض اوقات یہ یار  ڈھیرے ڈال دیتے ہیں اور انسانی مداخلت پر تنگ کرنے  لگتے ہیں۔

اب ہو ا یہ کہ پہلے پہل تو موصوف کے ساتھ ہلکا ہلکا سا مزاح کیا گیا ،لیکن پھر  چند دن بعد وہ مزاح کچھ زیادہ ہی ہونے لگا۔بات یہ تھی کہ ایک دن موصوف کے ایک دوست  انکے کمرے میں تشریف لائے ،تو ہمارے اس ساتھی نے رات  میں نیند کی خلل والا قصہ بیان کردیا۔ اب جو مہمان آیاتھا، تو انہوں نے فورا کہا کہ جی میں بھی ایک  عامل  ہوں اور میں آپکے اس مسئلے کو حل کردونگا۔

اندھے کو کیا چاہئے ،دو آنکھیں،بس ہمارے دوست نے فورا حامی بھر لی،اور عامل اپنے کام میں جُت گیا۔

چنانچہ کئی قسم کی اوراد ہمارے اس دوست کو ازبرد کردی گئی کہ انکو صبح شام پڑھنا ہے،اور ساتھ میں ایک تعویذ بھی بازو پر بندھوائی کہ یہ جنات کیلئے ایک سیکورٹی  پھاٹک کا کام سرانجام دئے گا۔

لیکن ہوا یہ کہ جب سے ہمارے دوست نے وہ وظیفہ صبح و شام کرنا شروع کیا ،ردعمل میں جناتی مذاح میں سختی کا عنصر شدت اختیار کرنے لگا،چنانچہ ساری رات ہمارے دوست کو سونے نہیں دیا گیا،جس کے سبب موصوف کی طبیعت  خراب ہوتی گئی۔

میں نے انکو اپنے ایک استاد کے پاس لے جانے کا مشورہ دیا ،جو کہ جنات کا توڑ کئی سالوں سے کر رہے ہیں ۔چنانچہ ان سے وقت لے کر ہم انکے درپر شرف حاضری دینے چل پڑے۔ ملاقات کے بعد  میں نے  اس دوست کا تعارف کروایا اور ساتھ میں انکا مسئلہ بھی سامنے رکھ دیا۔

انہوں نے پہلے یہ پوچھا کہ وظیفہ کیا پڑھ رہے ہو ؟ تو  دوست نے جواب دیا کہ جی فلاں فلاں وظیفہ پڑھ رہا ہوں۔جواب سُن کر ہمارے استاد صاحب ہنس پڑے اور ان سے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں ؟دوست نے انکار میں سر ہلایا تو استاد جی نے وضاحت کی کہ  جو وظیفہ آپ کر رہے ہیں ،وہ جنات کو تیش دلانے کیلئے ہے۔اور اسی لئے ابتداء میں ہلکے مزاح کے بعد انکا مزاح جارحانہ انداز میں تبدیل ہوگیا تھا کہ جب سے آپ نے وظیفہ شروع کیا،تو انکو تکلیف ملنا شروع ہوئی۔

اسکے بعد بعض نصائح اور  اور علاج بتا کر ہم وہاں سے رخصت ہوئے۔ اور دوست کو بس سٹا پ پر اتار کر میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔

دوپہر کو تھوڑ ا آرام کرنے کے بعد دوستوں سے ملنے مارکیٹ گیا تو دیکھا کہ مارکیٹ کے احاطے میں کھڑی گاڑی کے ارد گرد چند لوگ کھڑے ہیں اور  آپس میں مشورے کر رہے ہیں۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ رات کو انہوں نے مارکیٹ میں گاڑی کھڑی کی تھی ،تو ایک تو گاڑی کی اوریجنل چابی اندر رہ گئی تھی ،اور دوسری بات یہ کہ کسی نے ڈرائیور سائیڈ  دروازے  کے لاک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی ۔ جس کی وجہ سے وہ گاڑی کو نہیں کھول پا رہے تھے ،اور صبح سے عصر تک  باوجود کوشش کے گاڑی  کو نہ کھول سکے۔

وہ بے چارے بڑے پریشان کہ خدایا اب کیا کریں۔

میں نے قریبی کھڑے دوست کو ایک دو نسخے  بتائے اور کہا کہ آج پیکٹس کا موقع ہے ،چلو تجربہ کرتے ہیں۔imagesns

اب ہمارے پاس دو آپشن تھے، پہلا آپشن یہ  کہ ٹینس بال کے ذریعے لاک کو کھولا جائے ،اور  دوسرا آپشن یہ کہ سٹیل پیمانے (فُٹ،سکیل) کے ذریعے  کوشش کی جائے۔

گاڑی والوں کو دونوں آپشن سے مطلع کیا تو انہوں نے  پیمانے والا طریقہ مناسب سمجھا۔چنانچہ میں نے انکو قریبی سٹیشنری کی دوکان سے سٹیل پیمانہ لانے کو کہا اور خود ماہر لاکریات بن کر    لاک ہنڈل کو انگلیوں سے ٹٹولنے  لگا، اتنے میں وہ لڑکا آگیا اور مجھے کہا کہ خان صاحب یہ لو سٹیل پیمانہ، پہلی بار خیبر پختون خواہ میں اپنے لئے خان صاحب کا لفظ سُن کر عجیب سا لگا۔

خیر  لاک کے عین اوپر شیشے کے ربڑ  والی سٹریپ کو ہٹا کر  پیمانہ سے لاک کو ٹٹولنے کی کوشش کی،لیکن مزہ نہیں آیا۔پھر دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ربڑ پٹی ہٹا کر  موبائل ٹارچ کے ذریعے اندر جھانکا جائے ،تاکہ کوئی آسان حل نکل آئے۔

چنانچہ ایسا ہی کیا تو  ایک ہُک سا نظر آیا۔فورا ہی پیمانے کو اس  پر فٹ کیا اور اوپر سے اسپر دباؤ ڈالا تو پیمانہ ہُک سے  پھسل گیا،لیکن ساتھ ہی کنڈیکٹر سائیڈ کا لاک کھل گیا تھا ۔ ہم نے ڈرائیور سائیڈ والا چیک کیا تو وہ ابھی تک نہیں کھلا تھا،شائد کسی کے چھیڑنے کی وجہ سے ۔بہر حال  انکا مسئلہ حل ہوگیا تو اپنا ضمیر بھی ہلکا محسوس ہوا،اور وہ لوگ ہنسی خوشی چل پڑے۔

بعد میں  ساتھیوں نے بتایا کہ دراصل مارکیٹ کا اپنا چوکیدار ہے ،لھذا گاڑی کو چھیڑنا  رسک سے خالی نہیں لیکن شائد رات کو  انہوں نے گاڑی تو کھڑی کرلی تھی،لیکن چوکیدار کو  خیال رکھنے کیلئے 20-30 روپے نہیں دئے تھے،اسی لئے چوکیدار  نے انکو سبق سکھانے کی کوشش کی تھی۔

گاڑی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ،اسکا خیال رکھنا چاہئے،اور بعض اوقات معمولی رقم کو بچانے کیلئے اپنی گاڑی کو رسک میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ہم خود بھی جب اس مارکیٹ میں کبھی گاڑی کرتے یں تو چوکیدار کو 20-30 روپے دے دیتے ہیں اور وہ بےچارہ ساری رات گاڑی کا خیال کر تا ہے،حالانکہ وہ صرف مارکیٹ کا چوکیدار ہے ،گاڑیوں کا نہیں۔

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on February 22, 2013, in درویش کے قلم سے, عمومی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 15 Comments.

  1. جن والے انکل کا کیا ہویا؟

  2. السلام علیکم
    کیا واقعی جن تنگ کرتے ہیں لوگوں کو؟

  3. جی جن واقعی تنگ کرتے ہیں لیکن انسانوں کو، چڑیلوں کو نہیں🙂

    • السلام علیکم
      🙂 اچھا پھر تو انسانوں سے جن ہی بہتر ہوئے- کم از کم وہ اپنی عورتوں کا تو خیال رکھتے ہیں

  4. کسی سیانے نے کہا تھا کہ جہاں مشکل درپیش ہو کسی بوڑھے سے رجوع کرو لیکن کیا کریں اس سائنسی ترقی کو کہ جوان سمجھتے ہیں بوڑھے اَن پڑھ ہیں ۔ بات جن بھوت پریت کی ہو یا گاڑی کا تالا بند ہونے کی ۔ کہیں نہ کہیں بوڑھا مل ہی جاتا ہے جو مشکل آسان کرتا ہے ۔ گو کہ میں بوڑھوں ہی میں شمار ہوتا ہوں میرے ساتھ ایک اضافی بات یہ ہے کہ کار کی چابی اندر دروازے لاک اور جن قسم کا بھی ذاتی تجربہ ہے ۔ دونوں مشکلات کا حل ایک ہی ہے ۔ وہ یہ کہ انسان اپنے حواس کو قائم رکھے اور تحمل مزاجی سے بغیر کسی خوف کے مشکل کا حل تلاش کرے ۔ تالے کی نسبت جنات کا حل آسان ہے ۔ اس کیلئے کسی عام وغیرہ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں صرف ہوش و حواس کو قائم رکھتے ہوئے بزرگوں کی بتائی دعائیں پڑھنا چاہیئے یعنی رات کو سورت فاتحہ چاروں قُل اور آیت الکرسی پڑھ کر سونا چاہیئے اور اگر ہر نماز کے بعد نہیں تو کم از کم فجر اور عشاء کی نماز کے بعد منزل پڑھنا چاہیئے ۔ یہ بازار میں بغیر قیمت بھی مل سکتی ہے ۔ میں بھی یونیکوڈ میں لکھی آپ کو بھیج سکتا ہوں ۔
    کار کا بند لاک کھولنے کا سٹیل رُول والا طریقہ درست ہے لیکن اس سے بھی آسان سٹیل کی تار کا استعمال ہے اور ڈرائیور والا دروازہ نہیں کھولنا چاہیئے بلکہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھولنا چاہیئے ۔ سٹیل کی تار کے استعمال کیلئے ربڑ ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی
    درست کہ جنات ہیں اور یہ کبھی کبھی انسان کو تنگ بھی کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جنات کی موجودگی کا احساس عام طور پر وہم ہوتا ہے

    • انکل بات آپ نے زبردست کہی۔چاہئے جو بھی مسئلہ ہو ،بس کسی بھی قیمت پر حواس برقرار رہنے چاہئے۔
      سٹیل تار کا کبھی تجربہ نہیں کیا،اسکے ساتھ کیا کرنا ہے؟
      وہ لاک کا ہُک کھینچنا ہے یا کچھ اور؟

  5. سنا ہے جن اور جننیاں انسانوں کے عاشق بھی ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟😀

  6. یہ حقیقت ہے کہ جنوں کو جب تک تنگ نہ کیا جائے وہ بھی تنگ نہیں کرتے۔ اور کار کیسے کھلی یہ تو مت بتائیں ورنہ چوروں کو چوری کا طریقہ معلوم ہو جائے گا۔

    • کبھی کبھی اسکے الٹ بھی ہوجاتا ہے کہ جن ہی تنگ کرنے میں ابتداء کرتے ہیں۔
      چور بننا مفت میں نہیں ہوتا ،وہ پہلے ہی کسی استاد سے سیکھ چکا ہوتا ہے۔
      میں نے صرف اسلئے یہاں بیان کیا کہ بعض ساتھی دروازہ لاک ہونے کی صورت میں بڑے بے بس نظر آتے ہیں اور یا گاڑی کے لاک کو توڑ کر کھول دیتے ہیں۔

  7. السلام علیکم
    آپ کی دوست نی وہ کونسی الفاظ کییں تہی جس کی وجہ سی جنیات نی انی اور بہی تنگ کیا؟

  8. اس لیی بتایی تا کہ کوی اور آدمی ان الفاظ سی گریز کریں اور غلطی سی بچ جائی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: