اٹک کی ٹھنڈک

رات جب تراویح کے بعد میں اسکو رخصت کرنے لگا ،تو اس نے اپنے گھر کی طرف دیکھ کر کہا کہ آج پھر ہماری بجلی خراب ہے،چونکہ رات کافی دیر ہوچکی تھی ،اور علاقہ بھی خاموشی کے سبب ڈراونا منظر پیش کر رہا تھا، اسلئےمیں اسکی بات کو بے توجہی سے سُن کر  اپنے گھر چلا گیا۔

رمضان میں رات کو دیر سے سونے اور پھر سحری کیلئے جاگنے کی وجہ سے میں دن کو 11-12 بجے تک سویارہتا ہوں ،اور یہی معمول میرے دوست کا بھی ہے۔لیکن صبح خلاف معمول   9 بجے اسکی کال آئی۔پہلے تو میں حیران ہوا کہ اس وقت اسکا فون کیسے آگیا ،اسی حیرانی میں فون اٹھایا تو دوسری طرف سے  دوست بولاکہ ساری رات گرمی کی وجہ سے بے آرامی میں گذری ہے ،اسلئے کہیں روزے کی گرمی کم کرنے کیلئے ٹھنڈک  حاصل کرنے جاتے ہیں۔

کافی دنوں سے میرا  کہیں صاف پانی میں  نہانے کا ارادہ تھا،چنانچہ دوست کو لے کر اٹک جانے کا ارادہ کیا۔ بد قسمتی سے رات کو میں ائے سی آن کرکے سویا تھا جس کی وجہ سے سارا بدن ٹھنڈک کی وجہ سے درد کر رہا تھا،اور فی الحال مزید کسی طریقے سے بدن کو ٹھنڈک دینا نہیں چاہتا تھا۔لیکن میں نے سوچا کہ چلو  میں سیر کرلونگا اور میرا ساتھی دریا میں نہا کر اپنے بدن کی گرمی دور کردئے گا۔سو  ہم اٹک کی جانب چل پڑئے۔

راستے میں وہی جی ٹی روڈ کی ہریالی اور سرسبز مناظر

SAM_2086

SAM_2088

SAM_2091

نوشھرہ کے قریب پہنچ کر  عجیب منظر یہ دیکھا کہ سڑک کنارئے سمندری  پنگوئین  کا جُھنڈ  ہے ۔پینگوئن اور وہ بھی نوشہرہ میں ،ہے نا حیرانی کی بات.

لیکن ابھی رُکئے!  تصویر دیکھیں اور خود ہی اندازہ لگائیں کہ کیا واقعی یہ وہی مشہور پنگوئن کی نسل ہی ہے ۔ ۔ ۔

SAM_2181

SAM_2092

خراماں خراماں چلتے ہوئے ہم ضلع اٹک پہنچ ہی گئے،اور سیدھے جا کر  درائے سندھ کے اوپر بنے پل پر گاڑی کو بریک لگائے،اخر یہاں بھی کیمرے نے اپنا کمال تو دِکھانا ہے۔تو آئے دیکھتے ہیں کیمرئے کے کمالات۔ ۔ ۔

SAM_2101

SAM_2102

اٹک پُل کے قریب مشہور اٹک قلعے کی دور سے ایک جھلک۔

SAM_2103

پہاڑ کے دامن میں اور دریائے سندھ کے کنارے خیر آباد گاؤں،جو کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حدود میں آتا ہے۔

SAM_2104

صوبہ پنجاب کی طرف اٹک پُل کے قریب پکنک پوائینٹ،جہاں لوگ سیر کرنے اور نہانے کیلئے جاتے ہیں۔ہمارا منزل مقصود بھی یہی جگہ ہے۔

SAM_2106

دریائے سندھ کے درمیان میں ایک چھوٹا سرسبز جزیرہ۔

SAM_2109

چونکہ اٹک کے مقام پر دو دریاؤں کا ملاپ ہوتا ہے یعنی دریائے کابل و دریائے سوات،اور عجیب بات یہ ہے کہ دریائے کابل کا پانی گدلا ہے،جبکہ دریائے سوات کا پانی  صاف شفاف اور ٹھنڈا،اگرچہ اس مقام پر دونوں دریا مل جاتے ہیں لیکن انکا پانی پھر بھی اپنےالگ الگ رنگ کے ساتھ بہتا ہے ۔ اس تصویر میں آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔اور ساتھ میں دریا کے درمیان میں کھڑے بجلی کے کھمبے کا نظارہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

SAM_2111

SAM_2113

لو جی ہم اسی پکنک پوائینٹ پر پہنچ گئے۔اس مقام سے اٹک پل کا ایک نظارہ

SAM_2116

میرا خیال تھا کہ اس چٹھان پر کھڑا ہوجانے کا تھا لیکن ان پتھروں کی نوکیں کافی تیز ہیں ،اسلئے یہاں ننگے پاؤں کھڑے رہنا ممکن نہ تھا۔

SAM_2122

SAM_2121

ہاں یہ جگہ مناسب ہے دریا میں اترنے کیلئے۔ ۔ ۔

SAM_2119

دریا میں لوگ نہاتے ہوئے اور ٹھنڈے پانی سےلطف اندوز ہوتے ہوئے۔

SAM_2120

SAM_2163

SAM_2146

دریا کے کنارے یہ چھپر کسی نے بنایا ہوا ہے اور اسکے قریب ہی مچھلیوں کو پکڑنے کیلئے پانی میں جال بچھایا گیا ہے۔جال تو نظر نہیں آرہا،لیکن اسکےاوپر جو نشانیاں ہیں وہ دیکھی جا سکتی ہیں۔

SAM_2132

جال کے اوپری نشانیاں اس تصویر میں واضح ہیں

SAM_2156

دریا  کنارئے پارکنگ مع کمرئے برائے کرایہ اور قریب ہی ایک چھوٹی سی مسجد

SAM_2150

SAM_2149

SAM_2148

پہلے پانی کم تھا لیکن اخر میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی، شائد پہاڑوں سے پانی کا تازہ ریلا پہنچ گیا تھا۔ ان تصاویر میں واضح  دریا کی بلند ہوتی سطح کودیکھا جا سکتا ہے۔

SAM_2124

SAM_2172

دریا کے درمیان میں چھٹانیں جو کہ بعد میں پانی کی سطح کی بلندی کے سبب ڈوب گئی

SAM_2147

SAM_2177

دریا کے درمیان میں جانے کی کوشش کرنے والا ایک لڑکا، جسکا  پانی کی سطح چڑھنے کے بعد مجھے اندازہ نہ ہو سکا کہ کس طرف چلا گیا۔

دریائے سندھ کا ایک ویڈیو منظر

دریا کنارے مزید سیاحتی مقامات

SAM_2179

SAM_2180

چلو جی سیر تو کافی ہوگئی ،اب آپکا ایک چھوٹا سا امتحان ،لیکن گھبرائیے نہیں ۔یہ تو صرف  تفریح کیلئے ہے۔ تو شروع کرتے ہیں پہلے اس تصویر سے۔ ۔ ۔

یہ کس سیارے کا ٹکڑا ہے،مریخ یا عطارد!!!

SAM_2138

یہ کس آبی جانور کا انڈہ ہے  !!! کوئی بتائے گا ۔ ۔ ۔

SAM_2143کون بتائے گا یہ کونسی سبزی ہے۔ ۔ ۔ !!!

SAM_2166

چلو جی ہم نے واپسی کی تیاری شروع کردی، کیونکہ افطاری کیلئے گھر بھی تو پہنچنا تھا، دن بھر کی تھکان کے سبب نیند بھی آرہی تھی اور بھوک بھی لگی تھی۔ لھذا گھر کی طرف واپسی کے ارادئے سے ہم چل پڑئے۔

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on August 2, 2013, in تصویری بلاگ, سفرنامے and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 7 Comments.

  1. شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ نے تو باتوں ہی باتوں مین ہمیں دریائے اٹک کی سیر کرا دی

  2. سبزی کا تو نہیں معلوم کچھوے کا انڈہ لگ رہا ہے۔

  3. چلو جی اچھا ہوا کہ گھر بیٹھے اٹک پر پکنک منا لی
    جناب یہ اور اس سے مختلف نمونوں کے پتھر پہاڑی دریاؤں میں پائے جاتے ہیں ۔ میں بچپن میں مختلف نمونوں کے چھوٹے چھوٹے پتھر اکٹھے کیا کرتا تھا ۔ مگر اٹک نہیں کسی اور جگہ

  4. اب ایک اچھا سا کیمرہ بھی خرید لیں۔ کب تک موبائل سے تصویریں کھینچتے رہیں گے 😛

    • یارا سعد میرے پاس کیمرہ ہے
      samsung ES70
      لیکن مجھے خود بھی اسکی تصاویر بھلی نہیں لگ رہی ۔اب میں اتنا ماہر بھی نہیں کہ تصویر کی اچھائی ،برائی نوٹ کرسکوں ۔

  5. اعلیٰ تصاویر ہیں جناب۔۔۔ پانی دیکھ کر میرا بھی دل ڈبکی مارنے کا چاہ رہا ہے اب تو۔۔۔

  6. بہت شکریہ برادرم ہم ہندوستانیوں کو اٹک کی مفت سیر کرانے پر ـــــ بہت اچھا لگا پڑھ اور دیکھ کر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: