صدقہ فطر اور مبارک باد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

                                          اما بعد:          

چونکہ عید کے دن قریب ہیں اور مسلمان بھرپور طریقے سے عید کو منانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔اور چونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبے میں ہماری
راہنمائی کرتا ہے  تاکہ ہماری پوری زندگی عبادت میں شمار ہو سکے۔اور ہماری زندگی کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔

            تو اسی طرح زندگی کے دیگر فرائض میں سے عید منانا بھی ایک اہم فریضہ ہے ،نیزعید کے احکام میں سے ایک اہم حکم صدقہ فطر کا ادا کرنا ہے۔چنانچہ میں نے مناسب جانا کہ

مزیدتحریر پڑھنے کیلئے اس صفحے پر جائیں

صدقہ فطر کے بارئے میں جو احکام و مسائل مجھے معلوم ہیں تو اسکو اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کرلوں تاکہ سب کو مسائل جاننے میں آسانی ہو اور سب کا بھلا ہو جائے ،نیز اس سے مجھے بھی مسائل اچھی طرح یاد ہوجائیں گے۔

           نیز ہوسکتا ہے کہ اس کالم کے بعد ایک آدھ ہفتہ تک بلاگ پر حاضری ممکن نہ ہو لھذا میری طرف سے  اردو بلاگستان کے شہسواروں اور اس پیارئے گلستان کے پھولوں کو ایڈوانس عید مبارک۔اپنے لئے دعاء کرتے وقت ایک آدھ بار ہمیں بھی یاد کرلیا تو  کیا ہی اچھا ہوگا۔

          اب آتا ہوں مسائل کی طرف ،

مسئلہ :1   

           جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکواۃ واجب ہو یا یا اس پر زکواۃ واجب نہیں  لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال واسباب ہے جتنی  قیمت پر زکواۃ واجب ہوتی ہے ،تو اس پر عید کے دن صدقہ دینا واجب ہے ۔چاہئے وہ سوداگری کا مال ہو یا سوداگری کا نہ ہو۔اور چاہئے  اس پر پورا سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو ۔اسی صدقہ کو شریعت میں صدقہ فطر کہتے ہیں۔

مسئلہ: 2   

            کسی کے پاس دو گھر ہیں، ایک میں خود رہتا ہے اور دوسرا کرائے پر دیا ہے یا خالی پڑا ہے۔تو یہ دوسرا مکان ضرورت سے زائد ہے اور اگر اسکی قیمت اتنی ہو کہ جتنی پر زکواۃ  ہوتی ہے  تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور اس آدمی کو زکواۃ کا پیسہ دینا جائز نہیں ۔البتہ اسی پر اسکا گزارا ہو تو یہ مکان بھی ضروری اسباب میں داخل ہوجائے گا ،اور اسپر صدقہ فطر واجب نہ ہوگا اور اسکو زکواۃ کا پیسہ لینا اوردینا درست ہوگا۔خلاصہ یہ کہ جس کو زکواۃ اور صدقہ فطر کا پیسہ لینا درست ہے تو اسپر صدقہ فطر واجب نہیں اور جس کو صدقہ فطر اور زکواۃ کا لینا درست نہیں اس پر صدقہ فطر واجب ہے۔

مسئلہ :3

           کسی کے پاس ضروری اسباب سے زائد مال اور اسباب ہے لیکن وہ قرضدار بھی ہے تو قرض مجرا کرکے دیکھو  کیا بچتا ہے ،اگر اتنی قیمت کا اسباب بچ رہے کہ جتنے پر زکواۃ یا صدقہ فطر واجب ہو جائے تو صدقہ فطر واجب ہے اور اگر کم بچے تو واجب نہیں ۔

مسئلہ:4

           عید کے دن جس وقت فجر کا وقت  (صبح صادق) ہوتا ہے اس وقت صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے تو اگر کوئی فجر کے وقت سے پہلے فوت ہوجائے تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔

مسئلہ:5

           بہتر یہ ہے کہ جس وقت مرد لوگ  نماز کیلئے عید گاہ جاتے ہیں اس سے پہلے ہی صدقہ دیدے، اگر پہلے نہ دیا توخیر بعد میں سہی۔

مسئلہ:6

              کسی نے صدقہ فطر عید سے پہلے رمضان میں دیدیا تو تب بھی ادا ہوگیا ، اب دوبارہ دینا واجب نہیں ۔

مسئلہ:7

             اگر کسی نے صدقہ فطر  عید کے دن نہیں دیا تو معاف نہیں ہوا ،اب کسی دن دیدینا  چاہئے۔

مسئلہ:8

          عورتوں کیلئے صدقہ فطر فقط اپنی طرف سے واجب ہے ۔کسی اور  کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں ۔نہ بچوں کی طرف سے نہ باپ کی طرف سے نہ شوہر کی طرف سے نہ کسی اور کی طرف سے۔

مسئلہ:9

           مرد پر نابالغ اولاد کی طرف سے دینا بھی واجب ہے  لیکن اگر اولاد مالدار ہو تو باپ کے ذمہ واجب نہیں بلکہ انھیں کے مال میں سے دیوے اور بالغ کی طرف سے  دینا بھی واجب نہیں البتہ اگر کوئی لڑکا مجنون ہو تو اسکی طرف سے بھی دیوے ۔

مسئلہ:10

             اگر چھوٹے بچے کے پاس اتنا مال ہو کہ جتنے کے ہونے سے صدقہ واجب ہوتا ہے ،جیسے اسکا کوئی رشتہ دار مرگیا  اور اسکے مال سے بچے کو حصہ ملا یا کسی اور طرف سے بچے کو مال مل گیا تو اس بچے کے مال سے صدقہ فطر ادا کرئے ۔لیکن اگر وہ بچہ عید کے دن صبح ہونے کے بعد پیدا  ہو تو اسکی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے۔

مسئلہ:11

             جس نے رمضان کے روزے نہیں رکھے اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے اور جس نے رکھے ہو اس پر بھی واجب ہے۔دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

مسئلہ :12

               اگر ایک آدمی کا صدقہ فطر ایک ہی فقیر کو دیدے یا تھوڑا کرکے کئی فقیروں کو دے دے تو دونوں باتیں جائز ہیں۔

مسئلہ:13

             صدقہ فطر کا نصاب اس طرح ہے کہ گندم  نصف صاع اور جو،کشمش اور کجھور ایک صاع دینا

 ہوگا۔

اب ایک صاع آج کل کے مطابق بعض علماء کے نزد ساڑھے تین کلو ہوتا ہے

   لیکن مفتی رشید احمد لدھیانوی  صاحب  کے اعداد کے مطابق  ایک صاع ساڑھے چار کلو  ہو تا ہے۔ لھذ ا احتیاط اسی میں ہے کہ آدمی کیلئے اگر ممکن ہو تو مفتی رشید احمد

 صاحب والے قول پر عمل کرئے تاکہ شک و شبہ کا موقع نہ رہے۔

 تو گندم کا نصف صاع  سوا دو کلو صدقہ فطر دینا ہوگا اور باقی جو ،کجھور اور

 کشمش کا ساڑھے چار کلو صدقہ فطر دینا ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ انسان کی اگر استطاعت اچھی ہو تو قیمتی نصاب میں سے صدقہ فطر ادا کرئے تاکہ ثواب زیادہ مل سکے

اور غریب کا بھی بھلا ہوسکے۔باقی گندم سے بھی ادائیگی ہو جائے گی۔

۔اور ان چیزوں کے ریٹ لگا کر اگر قیمت ادا کی جائے تو بھی صدقہ فطر ادا ہوجائے گی بلکہ بہتر یہ قیمت ہی ہے تاکہ نقد روپیہ وہ اپنے کام میں لگا سکے۔

مسئلہ:14

          صدقہ فطر کے وجوب کا نصاب یہ ہے کہ ایک آدمی کے پا س ساڑھے باؤن تولے چاندی یا اس سے زائد ،
یا ساڑھے سات تولے سونا یا اس سے زائد، یا گھریلو ضروریا ت سے زائد اتنا سامان ہو

کہ اسکی قیمت ساڑھے باؤن تولے چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہو تو اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے۔


۔

مسئلہ:15

           صدقہ فطر اور زکواۃ اپنےبالغ  سگے بھائی ، سگی بہن ، بھانجے ، بھتیجے، چچا چچی یا اسطرح کے دیگر رشتہ داروں کو دے سکتے ہیں جو کہ مستحق زکواۃ ہو۔

مسئلہ:16

          صدقہ فطر اور زکواۃ اپنے والدین ، دادا  دادی  یا  نانا   نانی کو نہیں دے سکتے۔ اسی طرح اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کو بھی نہیں دے سکتے۔

مسئلہ:17

          صاحب نصاب   ہونے(مسئلہ :14) کے بعد بھی اگر صدقہ فطر نہ دیا جائے تو ترک واجب کا مرتکب اور گناہ گار ہوگا۔

مسئلہ:18

              ایک شخص کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہےیا ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہے لیکن نقدی اور بلا ضرورت سامان نہیں تو اس پر  صدقہ فطر اور قربانی واجب نہیں۔لیکن اگر ایک شخص کے پاس ایک تو لہ سونا ہے اور اس کے ساتھ ضروریات یومیہ سے زیادہ سامان یا کچھ نقد روپیہ ہے کہ تو اب اس سونے کی قیمت اور اس قیمت کے ساتھ یہ نقد روپیہ  یا  ضرورت سے زیادہ سامان کی قیمت جمع کی جائے گی ۔

          اب دیکھنا یہ ہے کہ اگر ان قیمتوں کے جمع کرنے کے بعد یہ رقم ساڑھے باؤن تولے چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہے تو پھر اس پر صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے ،اور اگر ان اشیاء کی قیمتیں جمع کرنے کے بعد بھی ساڑھے باؤن تولے چاندی کی قیمت تک نہیں پہنچتی تو پھر اسپر قربانی اور صدقہ فطر واجب نہیں۔ یہی مسئلہ عورتوں کیلئے بھی ہے۔

مسئلہ :19

          صدقات واجبہ اور زکواۃ  غیر مسلم کو دینا درست نہیں ہے۔ہاں نفلی خیرات و صدقات انکو دی جاسکتی ہیں۔

اسی سلسلے میں ایک خاکہ ملا ،تو چاہا کہ آپ کے ساتھ بھی اسکو شئیر کروں ،تاکہ مسئلے کو سمجھنے میں مزید آسانی رہے۔خاکہ صدقہ فطر

نوٹ: یہ تحریر 2011 کو لکھی گئی تھی لیکن چونکہ ابھی دوبارہ عید الفطر کا موقع آگیا ہے ،اسلئے دوبارہ شایع کیا گیا ہے۔

مسائل ماخوذ از بہشتی زیور وفتاوی جامعہ بنوریہ کراچی۔

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on August 3, 2013, in مذہب, درویش کے قلم سے, عمومی and tagged , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 6 Comments.

  1. جزاک اللہ ۔۔۔آپ نے نہایت تفصیل سے مسئلہ کو بیان فرمایا ہے۔

  2. گلشن کو کر رہی ہے معطر ہوائے عید
    آتا نہیں نظر کچھ بھی سوائے عید
    میری طرف سے عید مبارک ہو آپ کو
    بس میرے پاس ہے یہی تحفہ برائے عید

  3. ڈاکٹر جواد صاحب شکریہ
    تحریم شکریہ برائے تحفہ

  4. جزاک اللہ خیر ۔ بہت اچھا کیا ہے آپ نے یہ معلومات لکھ کر ۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکں میرا خیال ہے کہ ایک صاع اڑھائی یا پونے تین کلو گرام کے درمیان ہوتا ہے

  1. Pingback: صدقہ فطر اور مبارک باد | Tea Break

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: