چھوٹی چھوٹی

عرصہ قبل ایک اردو فورم پر ایک بندے کی تحریر پڑھی تھی۔جس میں اس بندے نے پاکستانی قوم کے نیکیوں کا مزاق کچھ اس انداز سے اُڑایا تھا کہ پاکستانی عوام کی اکثریت جو نیکی کرتی ہیں ،تو ان میں سے چند یہ نمایاں ہیں۔

بھائی موٹر سائیکل کا سٹینڈ اُٹھالو

بہن اپنی چادر سنبھالو،موٹر سائیکل کے پہئے میں پھنس سکتی ہے وغیرہ

چنانچہ اسی طرح کی بعض باتوں کو جمع کرکے شائد  یہ تاثر دیا گیا تھا کہ پاکستانی قوم یہ خدمت کرکےگویا اسکو بڑی نیکی سمجھتی ہے۔

عموما یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی آپ کے کسی کام پر طنز کرئے تو وہ طنزیہ انداز بندے کے ذہن میں گُھس کر بیٹھ جاتا ہے۔اور وقتا فوقتا آپ کے دماغ میں وہ بات گھوم گھوم کر آنے لگتی ہے۔

کچھ یہی حال میرا بھی تھا،کہ اس بندے کی بات جب سے میں نے پڑھی تھی،تو بس میرے دماغ میں گھس کر بیٹھ گئی تھی۔اور جب بھی میں کسی موٹر سائیکل سوار کو دیکھتا یا کسی سواری پر بیٹھی عورت پر نظر پڑتی تو بس وہ جملہ میرے  ذہن میں گھوم جاتا۔اور میں سوچھنے لگتا کہ اس بندے نے یہ کیا کہہ دیا۔

میری بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے شکریہ

About Mansoor Mukarram

منصور مکرم(المعروف درویش خُراسانی) ایک اردو بلاگر ہے۔2011 سے اردو بلاگنگ کرتا ہے۔آجکل بیاضِ منصور کے عنوان کے تحت لکھتا ہے۔

Posted on November 22, 2013, in درویش کے قلم سے and tagged , , , . Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. جناب منصور مکرم صاحب آپ کا مضمون پڑھا گویا آپ نےنیکی کاایک اعلی سبق دیانیکی کی جزاٴ نیکی ہےاس سے مجھےاپنا ایک واقع یاد آگیامیرےپاکستانی پاسپورٹ کی معیادختم ہو چکی تھی معیاد ڈلوانےسفارت خانہ جا رہا تھاکہ ایک بس سٹاپ پرایک ایشیائ نظر آیا میں نےکار روک لی اور اس اجنبی کو بٹھایا یہ اجنبی ادھیڑ عمر کا تھاچہرہ مہرہ سےپڑھالکھااور پر وقار شخصیت کامالک تھاایک دوسرےسے تعارف ہوا میں نے سفارت خانہ جانے کی وجہ بتائ اس نےبھی بتایاکہ اسی شہر جا رہا ہےمیرے ہی شہرمیں رہتا اور ٹکٹوں کا کاروبار کرتا ہےاور یوں ہم ایک دوسرےسے متعارف ہوے یہ کہ وہ پاکستان ائرفورس سے ریٹایرڈآفیسر ہیں جلد ہی منزل مقصود آگئ میں نے پوچھاکہاں اتاروں کہنے لگاآپ کے ساتھ چلونگاجب سفارت خانہ پہنچےمیں ریسیپشن چلا فارم لیا پر کر کے ڈیسک پر پہنچا تو وہ اجنبی بھی آگیامیرے ہاتھ سےپاسپورٹ اورفارم لیا کہنے لگا دو گھنٹہ بعد آنا پاسپورٹ لے جانا میں نے بڑی کوشش کی کہ فیس ادا کروں مگر وہ نہ مانہ اس طرح دنوں کا کام گھنٹوں میں ہوگیااس طرح نیکی کا بدلہ بھی مل گیامیرے ساتھ والی گلی کے ایک شخص کو انکم ٹیکس کا کام پڑگیا اس اجنبی کے دفتر جانےکا اتفاق ہو ا اس شخص نے میرا نام لیاتو اس اجنبی نے اپنی فیس نہں لی اب عرصہ گذر چکا وہ اجنبی اس جہان میں نیہں خدا اسکی مغفرت کرے اسکی یادیں زندہ ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: