تاریخ کے نقصانات

(بشکریہ روزنامہ اسلام)

  1. بہت عمدہ مضمون لکھا ہے ….مولانا مودودی رحمہ الله علیہ اپنے ابتدائی دور میں اکثر یہ بات کرتے تھے کہ جدید تعلیمی نظام نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا ہے اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے تعلیم یافتہ طبقے کو دین کی دعوت دی جائے اور انکی ذہن سازی کی جائے تاکہ ان میں سے کچھ لوگ جب اسکول ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے طور پر پڑھائیں گے تو طلبا کو گمراہ کن تاریخی بد دیانتیوں سے بچاتے ہوۓ صحیح علم دے سکیں گے. آج ہم بجا طور پر اپنی اس تاریخی میراث پر فخر کر سکتے ہیں کہ اس دور میں جب جامعات میں شلوار قمیض پہننا جہالت کی اور داڑھی رکھنا کم عقلی ، اجڈ پن اور تنگ نظری کی علامت سمجھے جاتے تھے ، لوگ گئے اور دین کی دعوت کو عام کیا.اور آج پچاس سال بعد اس کا نتیجہ ہمارے سامنے یہ ہے کہ الحمداللہ تعلیم یافتہ طبقہ آج دین سے زیادہ قریب ہے اور جب بھی اس قسم کی زہر ناک صورتحال سامنے آتی ہے تو اسی تعلیم یافتہ طبقہ سے کوئی نا کوئی کھڑا ہوتا ہے اور رد پیش کرتا ہے.

  2. ماشاء اللہ بہت اچھا اور درست لکھا ہے ۔ ويسے آپ نے جو کچھ لکھ ديا ہے ميرے خيال کے مطابق اسے سمجھنے کيلئے بھی عِلم سے رغبت کی ضرورت ہے ۔ فی زمانہ تو سب کچھ صرف پيٹ بھرنے کيلئے اور مزيد کچھ جسمانی خواہشات پورا کرنے کيلئے کيا جاتا ہے ۔ وہ زمانہ کچھ اور تھا جب آدمی گھر سے صرف عِلم کے حصول کيلئے نکلتا تھا اور اُسے کسی جسمانی لوازم کی فکر نہ ہوتی تھی ۔ يہی وجہ تھی کہ اُس زمانہ ميں مسافر کو کھانا کھلانا اور اُس کی خدمت کرنا خُوبی سمجھا جاتا تھا کيونکہ مسافر دراصل عِلم کے حصول کيلئے گھر سے نکلا ہوتا تھا ۔ دولت کمانے کيلئے نہيں

  3. @ جواد صاحب : جی ابھی بہت س کام ہے ان کالجز میں کرنے کا ، لیکن جیسے آپ نے کہا کہ کچھ کچھ فضاء بدلی ہے۔

    @افتخار صاحب: آپ نے صحیح کہا آج کل ایسا وقت ایا ہے کہ انسان فرض نماز کیلئے بمشکل وقت نکال پاتا ہے ،رہی یہ علمی بحثیں تو اسکے لئے وقعی شوق ہونا چاہئے

  4. محمد سعید پالن پوری

    جزاک اللہ درویش صاحب۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا

  5. درویش صاحب
    تاریخ کے تنقیدی مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی عینکیں اتار کر بات کی جائے ورنہ یہ آدھا سچ ہوتا ہے جو جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ دوسرا ہم تاریخ سے ہمیشہ اپنی پسند کا نتیجہ کیوں نکالنا چاھتے ہیں؟

  6. کیا یہ سارے اصول بنی اسرائیل کی تاریخ پر بھی اپلائی ھوتے ھیں؟

  1. Pingback: تاریخ کے نقصانات « Darvesh Khurasani's blog

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: