Blog Archives

سانحہ میرعلی

سب ریڈی ہوجاؤ اور اپنی اپنی بندوقیں ریڈی کرؤ۔

دوسری گاڑی والے اردگرد پوزیشنیں سنبھال لو۔

تم دونوں اندر داخل ہوجاؤ،ہم کور کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی کمرے کی طرف بڑھتی بھاری بوٹوں کی چھاپ سنائی دیتی ہیں۔

اندر کوئی نہیں، کمرہ خالی ہے۔

اچھا ،دوسرے کمرے کی طرف بڑھو،

سر دروازہ اندر سے بند ہے۔

توڑ دو اسکو

اوکے سر ،اور اسی کے ساتھ ہی دھڑام سے دروازہ توڑ دیا جاتا ہے۔

سر یہاں بھی کوئی نہیں۔

سرچ کرو اندر

سر مل گیا ،ایک کونے میں نیچے تہہ خانے کی سیڑیاں ہے۔

ایک منٹ ،سب ادھر پوزیشنیں سنبھال لو،

سر کافی اندھیرا ہے،ٹارچ جلا کے دیکھتا ہوں ۔

سر اندر 20-25 کے قریب ہیں۔

بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

Advertisements

ڈاکٹروں کے شر

آج مصطفیٰ ملک صاحب  کا بلاگ پوسٹ (مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے) پڑھا، جس میں  لاہور کے ایک سینئر  ڈاکٹر نے  ناتجربہ کاری کے سبب انجینئرنگ کی ایک طالبہ کو عمر بھر کیلئے معذور کردیا۔

تو مجھے بھی اپنی زندگی میں بیتے ہوئے اس قسم کے چند واقعات یاد آگئے، کہ جس میں ڈاکٹر سراسر حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  مریض کو اپنی فیس کی خاطر پھنسانے کی کوشش  میں ہوتا تھا۔

تو جناب ہوا یہ کہ میں ایک  دن گھر کے قریب موجود تھا کہ میرےموبائل پر نامعلوم نمبر سے فون آیا۔ میں نے  جب فون  ریسیؤ کیا تو دوسری طرف سے میرا نام لے کر مجھے پکارا گیا۔ اب میں حیران کہ  یہ کون بندہ ہے ،جسکا نمبر بھی انجان ہے اور مجھے جانتا بھی ہے۔

پوری تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

%d bloggers like this: