Blog Archives

ہم نے بنوں یوں بھی دیکھا

 

میری پچھلی تحریر میں بنوں کی جانب سفرکا ذکر کیا گیا تھا۔بنوں جنوبی اضلاع میں سے ایک ایسا ضلع  ہے کہ جہاں سے کرک،سراے نورنگ، لکی مروت ،اور شمالی وزیرستان کے عوام نہ صرف مستفید ہوتے ہیں بلکہ ان علاقوں کی اکثر ضروریات زندگی یہیں سے پوری ہوتی ہیں۔

میڈیکل کالج، یونیورسٹی ، میڈیکل کمپلیکس ،اور مختلف تفریحی پارکس بنوں شہر کی نمایاں خاصیات ہیں۔اگرچہ سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان کا تعلق بھی بنوں سے تھا،لیکن اسکے دور میں بنوں میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہوسکا۔

ایم ایم ائے کے دور میں جب بنوں سے صوبائی نشست جیتنے والے اکرم خان دُرانی صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ بنے۔تو انکے دور حکومت میں بنوں میں نمایاں ترقیاتی کام ہوئے۔ جس کے سبب جنوبی اضلاع اور متصل قبائلی علاقہ جات کیلئے بنوں ایک ماڈل سٹی کے مثل بن گیا۔

بقیہ تحریر کیلئے یہاں کلک کیجئے گا۔شکریہ

Advertisements

دیوانے کا گریبان

ایک دھماکے کی آواز سُنائی دیتی ہے،اور ٹیلیفون کے تاروں کا کیبن اُڑ جاتا ہے۔
علاقہ کے تحصیلدار کی گاڑی گاؤں آجاتی ہے ۔
گاؤں کے ملک کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔
ملک صاحب نکلتا ہے ،تو سرکاری پیغام رساں سامنے کھڑا ہے۔
مجھے تحصیلدار صاحب نے بھیجا ہے اور آپ کیلئے ایک پیغام ہے۔
کیا پیغام ہے بھئی!!!

بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

سانحہ میرعلی

سب ریڈی ہوجاؤ اور اپنی اپنی بندوقیں ریڈی کرؤ۔

دوسری گاڑی والے اردگرد پوزیشنیں سنبھال لو۔

تم دونوں اندر داخل ہوجاؤ،ہم کور کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی کمرے کی طرف بڑھتی بھاری بوٹوں کی چھاپ سنائی دیتی ہیں۔

اندر کوئی نہیں، کمرہ خالی ہے۔

اچھا ،دوسرے کمرے کی طرف بڑھو،

سر دروازہ اندر سے بند ہے۔

توڑ دو اسکو

اوکے سر ،اور اسی کے ساتھ ہی دھڑام سے دروازہ توڑ دیا جاتا ہے۔

سر یہاں بھی کوئی نہیں۔

سرچ کرو اندر

سر مل گیا ،ایک کونے میں نیچے تہہ خانے کی سیڑیاں ہے۔

ایک منٹ ،سب ادھر پوزیشنیں سنبھال لو،

سر کافی اندھیرا ہے،ٹارچ جلا کے دیکھتا ہوں ۔

سر اندر 20-25 کے قریب ہیں۔

بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

%d bloggers like this: