Blog Archives

دیوانے کا گریبان

ایک دھماکے کی آواز سُنائی دیتی ہے،اور ٹیلیفون کے تاروں کا کیبن اُڑ جاتا ہے۔
علاقہ کے تحصیلدار کی گاڑی گاؤں آجاتی ہے ۔
گاؤں کے ملک کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔
ملک صاحب نکلتا ہے ،تو سرکاری پیغام رساں سامنے کھڑا ہے۔
مجھے تحصیلدار صاحب نے بھیجا ہے اور آپ کیلئے ایک پیغام ہے۔
کیا پیغام ہے بھئی!!!

بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

Advertisements

سانحہ میرعلی

سب ریڈی ہوجاؤ اور اپنی اپنی بندوقیں ریڈی کرؤ۔

دوسری گاڑی والے اردگرد پوزیشنیں سنبھال لو۔

تم دونوں اندر داخل ہوجاؤ،ہم کور کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ہی کمرے کی طرف بڑھتی بھاری بوٹوں کی چھاپ سنائی دیتی ہیں۔

اندر کوئی نہیں، کمرہ خالی ہے۔

اچھا ،دوسرے کمرے کی طرف بڑھو،

سر دروازہ اندر سے بند ہے۔

توڑ دو اسکو

اوکے سر ،اور اسی کے ساتھ ہی دھڑام سے دروازہ توڑ دیا جاتا ہے۔

سر یہاں بھی کوئی نہیں۔

سرچ کرو اندر

سر مل گیا ،ایک کونے میں نیچے تہہ خانے کی سیڑیاں ہے۔

ایک منٹ ،سب ادھر پوزیشنیں سنبھال لو،

سر کافی اندھیرا ہے،ٹارچ جلا کے دیکھتا ہوں ۔

سر اندر 20-25 کے قریب ہیں۔

بقیہ تحریر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔شکریہ

پائلٹ کا جواب

گزشتہ کالم میں پاکستانی فوج کے چند قاتلوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ جن کے مجرمانہ کرتوتوں کے سبب شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی میں ہیلی کاپٹر سےبلاوجہ شیلنگ کے دوران تین چار گاؤوں میں بے گناہ معصوم بچے ،عورتیں اور وطن کے با وفاء لوگ شھید ہوئے تھے۔11-19-2012_76185_l

اس کالم کے لکھنے پر اور انداز تخاطب پر بعض لوگ چیں بچیں ہوئے ،اور کئی ایک نے تو اخلاقیات کے حدود پار کرتے ہوئے منافقین کی علامات کا اظہار کیا۔ اور اس کالم کو خالصتا ملک سے غداری اور بے وفائی قرار دیا گیا۔ Read the rest of this entry

%d bloggers like this: